data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہمارے وزیر اعظم نے مکھن ڈپلومیسی سے دنیا میں جتنی شہرت کمائی ہے اتنی تو کسی نے بوٹ پالش سے بھی نہیں کمائی ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو ان کے ایسے مداح ہوگئے ہیں کہ ان کا ذکر کیے بغیر اب ان کی تقریر ہی مکمل نہیں ہوتی ہے۔ شہباز شریف کی تعریف باللسان اور الفت بالقلب سے متاثر ہو کر پہلے تو ٹرمپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ پاکستان نے ہندوستان کے چار رافیل طیارے گرا دیے ہیں۔ پھر جیسے جیسے یہاں سے مکھن کی مقدار بڑھتی گئی ویسے ویسے وہاں سے جہازوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی اور آج کل ٹرمپ سات جہاز گرانے کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو حالیہ دنوں میں دو قومی نظریہ کا دفاع ٹرمپ سے بہتر کسی نے نہیں کیا ہے۔ اگر شہباز شریف اسی طرح تعریفوں کے جام کے جام لنڈھاتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں امریکا کے صدر کو حاجی ڈونلڈ ٹرمپ مدظلہ کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ ٹرمپ پر تو ان تعریفوں نے اتنا سحر پیدا کر دیا ہے کہ بار بار وہ یہ شہد میں گھلے ہوئے الفاظ خود بھی سنتے ہیں اور اصرار کرکے دنیا کو بھی سنواتے ہیں۔ شرم کر شیخ میں تو تعریفوں کا پل اتنا لمبا ہو گیا کہ ٹرمپ کو کہنا پڑگیا کہ بس بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ اب گھر چلنا چاہیے۔
ویسے تو مکھن لگانے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور زیادہ تر یہ حکمت عملی کامیابی حاصل کرنے کے لیے کامیاب رہی ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نے اسے ایسی جہت دی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سربراہان مملکت انگشت بدنداں ہیں کہ افسوس کہ شہباز کو پالش کی نہ سوجھی۔ حالانکہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ گاڑی کے ٹرنک سے برآمد ہونے کے بعد پالش سے ہی آغاز کیا تھا کہ ’جئے گیٹ نمبر چار نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘۔ لگتا تو ایسا ہی ہے کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ اگر یہ اسی طرح اس فن میں ید طولیٰ حاصل کریں گے تو یہ وزیر اعظم سے بھی آگے ترقی کریں گے۔ دنیا کی جامعات انہیں مکھن ڈپلومیسی اور فیملی پلوٹو کریسی پر لیکچر کے لیے بلائیں گی۔ انگریزی ادب ویسے بھی مدح سرائی میں غریب ہے۔ اسی لیے ہمارے وزیر اعظم کی تقریر انگریزی ادب میں بھی ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ فیضی اور ابو الفضل قبروں میں مدح کی اس روانی پر بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ یہ ردیف، قافیے اور قیافہ شناسی ہم جانتے تو نہ جانے دربار اکبری میں کس مقام و مرتبہ کو پہنچتے۔ ہمارے وزیراعظم کی دیدہ دلیری اب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کسی بھی ملاقات میں انہوں نے ٹرمپ کا ہاتھ ایک مرتبہ پکڑ لیا تو پھر اسے چھوڑا نہیں۔ کیمرے کی آنکھ نے تو شہباز کو امریکی صدر کو ایک مرتبہ آنکھ مارتے ہوئے بھی پکڑ لیا۔ ایسی محبت تو صدر ایوب اور ملکہ برطانیہ کے درمیان بھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے جب ہیلری کلنٹن کو گلے لگایا تو اس کا بھی دنیا میں اتنا افسانہ نہیں بنا۔
دنیا میں تو سو منہ اور سو باتیں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے وزیراعظم کی کارکردگی پر عش عش کر رہے ہیں تو کچھ تھو تھو بھی کر رہے ہیں۔ اتنی محنت کے باوجود بنگلا دیش کے مقابلے میں ہمیں ٹیرف میں تو صرف انیس بیس کا ہی فائدہ ہوا ہے لیکن یہ فائدہ البتہ ہوا ہے کہ امریکا کے صدر کو پاکستان کے وزیراعظم کا نام منہ زبانی یاد ہو گیا ہے بلکہ جہاں بھی جاتے ہیں اصرار کرکے انہیں بھی بلواتے ہیں کہ تارے بن مورا جیا ناہی لاگے۔ یہ اس لیے بھی لازم و ملزوم ہوگیا ہے کہ اب ٹرمپ اپنی تقریر سے قبل عزت مآب وزیر اعظم کو دعوت دیتے ہیں کہ ممدوح کی مدح سے تقریب کا آغاز کریں۔ پاکستانی عوام اور معیشت کا تو پہلے ہی تیل نکل چکا ہے لیکن ٹرمپ نے محبت سے مخمور ہو کر پاکستان کا تیل اور معدنیات دونوں نکالنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ فی الحال کے لیے تو الٹے بانس بریلی پاکستان امریکا سے تیل درآمد کر رہا ہے اور اس کامیابی پر ہمارے حکمران بغلیں بجاتے نہیں تھک رہے ہیں۔ روسی صدر نے جذباتی ہو کر کہہ دیا ہے کہ ہم تیل نکالنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں تو ٹرمپ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ تیل نکالنے میں ہمارا بھی کوئی ثانی نہیں ہے۔ یقین نہ آئے تو عرب ممالک سے تصدیق کر لیں۔ امریکا کی جان لیوا دوستی ہم سہہ نہیں پائیں گے کیونکہ مرغی کو تکلے کا گھاؤ ہی بہت ہوتا ہے۔
کرکٹ ڈپلومیسی کے بعد تو ہم نے ہندوستان کو صرف دھمکی دی تھی لیکن۔ بٹر ڈپلومیسی کے نتیجے میں ہم نے وہ کر دیا جو پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ ہم بلوچستان اور کے پی کے میں تو الجھے ہوئے تھے ہی۔ ہم نے افغانستان کے خلاف ایک محاذ اور کھول دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ہم سے بہت حال ایک قدم آگے رہتے ہیں۔ ہمارے سات جہازوں کے گرانے کا ذکر کرتے ہیں تو اپنا ذکر بھی فخریہ کرتے ہیں کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں۔ نویں جنگ پاکستان اور افغانستان کی رکواؤں گا اور دسویں جنگ یوکرین اور روس کی۔ لگتا تو یہی ہے کہ جب تک ٹرمپ دسویں جنگ رکوائیں گے پاکستان بھی نو رافیل گرا چکا ہوگا۔ صدر ٹرمپ کو اس بات کا بہت زیادہ افسوس ہے کہ اوباما نے کچھ نہ کیا اور اسے امن کا نوبیل انعام مل گیا اور پاکستانی اور اسرائیلی وزراء اعظم کی نامزدگیوں کے باوجود انہیں نوبیل انعام نہیں ملا۔ یہ بات صدر ٹرمپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات کچھ نہ کرنے سے بہتوں کا بھلا ہوتا ہے اور قابل انعام ہوتا ہے۔ ہم تو یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اسی لیے ہم طاقتور کے ہم رکاب رہنے کی ہر ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم زیادہ جذباتی ہوگئے تو ٹرمپ کو پاکستان آنے کی دعوت دے ڈالی جسے انہوں نے فی الفور قبول بھی کر لیا ہے۔ نوبیل انعام نہ صحیح نشان پاکستان تو ٹرمپ کو مل ہی جائے گا۔ ہماری خارجہ پالیسی تو کافی عرصے سے یہی چل رہی ہے کہ متھرا میں رہنا ہے تو رادھے رادھے کہنا ہے۔ بادشاہ کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی دونوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت ہم دونوں سے بچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ سیاسی قیافہ شناس تو یہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی بڑی ذمے داری سر پر پڑنے والی ہے۔ خدا خیر کرے۔ ہم تو آ بیل مجھے مار کے ویسے بھی بہت ماہر ہیں۔ ملک کی رہبری کرنے والوں کو دیکھ کر اور ڈر لگتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں تو ٹرمپ ٹرمپ کو اعظم کی میں تو ہیں کہ سے بھی اور اس
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔