اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں ترک سیکیورٹی فورسز کے کسی بھی کردار کی مخالفت کردی۔

یروشلم میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیتن یاہو نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان غزہ کی جنگ کے بعد کی صورتحال پر گفتگو ہوئی، جس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ جنگ سے تباہ حال علاقے میں سیکیورٹی کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا غزہ کے لیے امن منصوبہ، حماس نے ترمیم کا مطالبہ کردیا

جے ڈی وینس جنہوں نے ایک روز قبل کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی منصوبہ توقع سے بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، نے بدھ کو بھی اپنے مثبت مؤقف کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی نہیں کہاکہ یہ آسان ہوگا، مگر میں پُرامید ہوں کہ جنگ بندی برقرار رہے گی اور ہم پورے مشرقِ وسطیٰ میں بہتر مستقبل تعمیر کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

غزہ میں 12 روز سے جنگ بندی قائم ہے، جس کے بعد توجہ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر مرکوز ہو چکی ہے۔

منصوبے کے مطابق حماس کو ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور ایک بین الاقوامی نگرانی میں قائم فلسطینی کمیٹی غزہ کا انتظام سنبھالے گی، جبکہ بین الاقوامی فورس جانچ شدہ فلسطینی پولیس کی مدد کرے گی۔

غزہ میں ترک سیکیورٹی فورسز کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے کہاکہ اس بارے میں میری بہت سخت رائے ہے، اندازہ لگانا چاہیں گے کہ وہ کیا ہے؟

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ وزارتِ دفاع نے بھی بات کرنے سے گریز کیا۔

جے ڈی وینس نے منگل کے روز کہا تھا کہ ترکی کے لیے ایک تعمیری کردار ادا کرنے کا موقع ضرور ہے، لیکن امریکا اسرائیل پر کوئی غیر ملکی فوج قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالے گا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کے امدادی وفد کا غزہ کا دورہ، بنیادی سہولیات اور پانی کے پلانٹ کا جائزہ

یاد رہے کہ نیٹو رکن ترکیہ اور اسرائیل کے مابین تعلقات غزہ جنگ کے دوران بدترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی حملوں پر شدید تنقید کی، جبکہ شام جو دونوں ممالک کے درمیان واقع ہے ایک نئی علاقائی مسابقت کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔

دوسری جانب حماس نے ہتھیار ڈالنے کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا اسلحہ صرف ایک مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے وقت ہی حوالے کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیلی وزیراعظم غزہ امن منصوبہ غزہ ترک سیکیورٹی فورسز مخالفت کردی نیتن یاہو وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم غزہ ترک سیکیورٹی فورسز مخالفت کردی نیتن یاہو وی نیوز ترک سیکیورٹی فورسز نیتن یاہو نے کے لیے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار