لاہور‘گڑھ مہاراجہ : مارکیٹوں سے چینی غائب‘ بلیک میں210روپے کلو بکنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
لاہور، گڑھ مہاراجہ (کامرس رپورٹر+ نمائندہ نوائے وقت) اوپن مارکیٹوں میں کئی مقامات پر چینی نایاب ہوگئی جبکہ بلیک میں 210روپے کلو تک فروخت ہونے لگی۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 3روز میں ہول سیل میں موٹی چینی کا 50کلو کا بیگ 1700 روپے اضافے سے 10500 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ 50کلو باریک چینی بھی 1700روپے اضافے سے 10000 روپے فی بیگ اور 200روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں گڑھ مہاراجہ، احمدپور سیال، گڑھ موڑ، محمودکوٹ شریف آباد، کوٹ بہادر سمیت تحصیل بھر میں چینی نایاب،انتظامیہ بھی منظر سے غائب ہوگئی۔ عوامی حلقے نے کہا ہے کہ مقامی ڈیلرز نے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کررکھی ہے جس کے باعث شہری سرکاری یاپرائیویٹ چینی کیلئے دربدر ہیں اور مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب چینی ڈیلرز کا کہنا ہے کے شوگر ملوں سے لوڈنگ نہ ہونے کے باعث قلت پیدا ہوئی۔شہریوں نے کمشنر فیصل آباد، ڈپٹی کمشنر جھنگ، اسسٹنٹ کمشنر احمدپورسیال سے گراں فروشی اور چینی کی مصنوعی قلت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔