اسلام آباد‘راولپنڈی‘باجوڑ‘نوشکی ‘شمالی وزیرستان( خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی+ نیٹ نیوز) بلوچستان اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 7 خوارج ہلاک‘ کئی زخمی ہو گئے۔ اور شمالی  وزیرستان میں خوارج نے گاڑی کوآگ لگاد ی جس کے نتیجے میں6 شہری زندہ جل گئے۔ نوشکی میں دہشتگردوں کے حملے میں 2 اہلکار شہید ہو گئے۔ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دالبندین، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی میں فتنہ الہندوستان کی تشکیل کا قلع قمع کر دیا۔ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد پہاڑی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے، جن پر فضائی نگرانی کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی، سکیورٹی فورسز کی جانب سے موزوں وقت پر ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ اہم کامیابی سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی بہترین ہم آہنگی اور مؤثر رابطے کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے تک فورسز کی جانب سے سکیورٹی اقدامات جاری رہیں گے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی باجوڑ کے علاقے میں خوارجیوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں فورسز نے شاہی تنگی جنگل میں موجود خوارجی دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سرنگوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شاہی تنگی کے جنگل میں موجود ایک غار پر گھات لگا کر سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کی۔ جہاں خوارجیوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا‘ جس کے نتیجے میں ایک خوارجی ہلاک اور دیگر زخمی خوارجی علاقے سے فرار ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے میں موجود سرنگوں اور قریبی مقامات کو بھی کلئیر کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران خوارجیوں کے زیر استعمال اسلحہ، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے غریب آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار معمول کے گشت پر تھے اور اچانک فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔ پولیس افسران نے بتایا کہ غریب آباد کے علاقے میں مسلح افراد نے اہلکاروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے سپاہی رزاق اور سپاہی عبداللہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر دہشت گردی یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بھتہ نہ دینے پر شمالی وزیرستان میرعلی میں گاڑی کو آگ لگا دی جس میں موجود چھ افراد زندہ جل گئے۔ فتنہ الخوارج نے دہشت پھیلانے کے لیے ظلم کی انتہا کر دی اور بھتہ نہ دینے پر ایک گاڑی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی نتیجے میں گاڑی کے اندر موجود 6 نہتے اور معصوم  شہری جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر خوارجیوں کی تلاش  کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔بنوں سرہ درگربنگلہ میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا‘پولیس کے مطابق بروقت بھرپو ر جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہوگئے ‘ حملے میںکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کی ذرائع کے مطابق سکیورٹی ذرائع کے نتیجے میں فورسز نے کے علاقے ہو گئے کر دیا

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار