دالبندین باجوڑ ، 7دہشتگر دہلاک نوشکی اہلکاروں پر حملہ 2شہید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسلام آباد‘راولپنڈی‘باجوڑ‘نوشکی ‘شمالی وزیرستان( خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی+ نیٹ نیوز) بلوچستان اور باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 7 خوارج ہلاک‘ کئی زخمی ہو گئے۔ اور شمالی وزیرستان میں خوارج نے گاڑی کوآگ لگاد ی جس کے نتیجے میں6 شہری زندہ جل گئے۔ نوشکی میں دہشتگردوں کے حملے میں 2 اہلکار شہید ہو گئے۔ بلوچستان کے علاقے دالبندین میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دالبندین، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی میں فتنہ الہندوستان کی تشکیل کا قلع قمع کر دیا۔ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 6 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد پہاڑی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے، جن پر فضائی نگرانی کے ذریعے مسلسل نظر رکھی گئی، سکیورٹی فورسز کی جانب سے موزوں وقت پر ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ اہم کامیابی سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی بہترین ہم آہنگی اور مؤثر رابطے کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے خاتمے تک فورسز کی جانب سے سکیورٹی اقدامات جاری رہیں گے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز کی باجوڑ کے علاقے میں خوارجیوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں فورسز نے شاہی تنگی جنگل میں موجود خوارجی دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سرنگوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شاہی تنگی کے جنگل میں موجود ایک غار پر گھات لگا کر سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کی۔ جہاں خوارجیوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا‘ جس کے نتیجے میں ایک خوارجی ہلاک اور دیگر زخمی خوارجی علاقے سے فرار ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے میں موجود سرنگوں اور قریبی مقامات کو بھی کلئیر کر دیا ہے۔ کارروائی کے دوران خوارجیوں کے زیر استعمال اسلحہ، بارودی مواد اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے غریب آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار معمول کے گشت پر تھے اور اچانک فائرنگ کا نشانہ بن گئے۔ پولیس افسران نے بتایا کہ غریب آباد کے علاقے میں مسلح افراد نے اہلکاروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے سپاہی رزاق اور سپاہی عبداللہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر دہشت گردی یا ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بھتہ نہ دینے پر شمالی وزیرستان میرعلی میں گاڑی کو آگ لگا دی جس میں موجود چھ افراد زندہ جل گئے۔ فتنہ الخوارج نے دہشت پھیلانے کے لیے ظلم کی انتہا کر دی اور بھتہ نہ دینے پر ایک گاڑی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی نتیجے میں گاڑی کے اندر موجود 6 نہتے اور معصوم شہری جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر خوارجیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔بنوں سرہ درگربنگلہ میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا‘پولیس کے مطابق بروقت بھرپو ر جوابی کارروائی سے حملہ آور فرار ہوگئے ‘ حملے میںکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز کی ذرائع کے مطابق سکیورٹی ذرائع کے نتیجے میں فورسز نے کے علاقے ہو گئے کر دیا
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔