مستونگ سے اغوا ہونے والے پولیس افسر کی لاش مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
مستونگ سے اغوا ہونے والے پولیس افسر کی لاش مل گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
کوئٹہ (آئی پی ایس) بلوچستان کے ضلع مستونگ سے چند روز پہلے اغوا ہونے والے پولیس افسر کی لاش ملی ہے۔
پولیس کے مطابق ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی کی لاش مستونگ کے نواحی علاقے کردگاپ میں گرگینہ کلی شربت خان سے ملی۔ علاقے کے لیویز انچارج غلام سرور نے بتایا کہ لاش چند گھنٹے پرانی معلوم ہوتی ہے اور مقتول کو سر اور جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں ماری گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاش کو قانونی کارروائی کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
نوشکی پولیس کے سربراہ ایس پی اللہ بخش کے مطابق مقتول ڈی ایس پی محمد یوسف ریکی نوشکی میں بطور سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) تعینات تھے۔ انہیں پانچ روز قبل ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب نوشکی سے سوراب اپنے گھر جاتے ہوئے مستونگ کے علاقے کردگاپ کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی سمیت اغوا کرلیا تھا۔
پولیس کے مطابق اغوا سے چند لمحے قبل محمد یوسف ریکی نے اپنی اہلیہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ انہیں مسلح افراد نے روک لیا ہے۔ اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ کسی محافظ کے بغیر اکیلے نیشنل ہائی وے کی بجائے نسبتاً غیر آباد اور پہاڑی مگر مختصر راستے سے سفر کر رہے تھے۔ ان کی گاڑی تاحال نہیں ملی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اغوا اور قتل کی وجوہات فی الحال معلوم نہیں ہوسکیں اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مستونگ اور گرد و نواح کے علاقوں میں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ بھی مستونگ پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو نامعلوم افراد نے سوراب کے قریب سے اغوا کیا تھا تاہم وہ چند روز بعد بازیاب ہوگئے تھے۔
دوسری جانب مستونگ کے علاقے دشت میں سیاہ پشت کے مقام سے نو مزدوروں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔
دشت لیویز تھانے کے ایس ایچ او اختر محمد کے مطابق واقعہ تین روز قبل پیش آیا۔ مزدور چوکیوں کی تعمیر کا کام کررہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مزدوروں میں چار مقامی جبکہ پانچ سندھی مزدور شامل ہیں، ایک مقامی مزدور کو بعد ازاں اغوا کاروں نے چھوڑ دیا اور باقیوں کو نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ اب تک درج نہیں کیا گیا کیونکہ متعلقہ ٹھیکیدار اور حکام نے اب تک درخواست نہیں دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنام نہاد اسرائیلی خودمختاری کو مغربی کنارے تک توسیع دینے کی کوشش، پاکستان کا شدید اظہار مذمت پاکستان کی بیٹنگ چلی نہ باؤلنگ، پنڈی ٹیسٹ پروٹیز کے نام، سیریز 1-1 سے برابر افغانستان میں خوارج کی موجودگی کیخلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں، ترجمان پاک فوج اسلام آباد ہائیکورٹ نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کمی کی درخواست مسترد کر دی اہم حکومتی وزیر کی عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش صنعتی بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کیلئے نیا طریقہ کارمتعارف امریکا کا روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولیس افسر کی لاش
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین