بنگلہ دیش نیول اکیڈمی میں ونٹر پریزیڈنشل پریڈ کا شاندار انعقاد ہوا جس میں مڈ شپ مین بیچ 2023اے کی تربیت مکمل ہونے پر نئے افسران کو نیول فورس میں باضابطہ کمیشن دیا گیا۔ یہ سالانہ پریڈ سمندری فورس کی روایتی اور باوقار تقریب سمجھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نیوی کا جہاز کراچی میں ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو‘ میں حصہ لے گا

چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد نظم الحسن تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا، اس موقع پر 31 مڈ شپ مین جن میں 2 خواتین افسران بھی شامل تھیں، 3 برس کی سخت عسکری تربیت مکمل کرنے کے بعد سب لیفٹیننٹ کے عہدے پر کمیشنڈ ہوگئیں۔    

نمایاں کارکردگی پر اعزازات کی تقسیم

پریڈ کے بعد نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو اعزازات سے نوازا گیا۔

سیّد تحسین احمد نے مجموعی کارکردگی میں بہترین ہونے پر اعزازی تلواز حاصل کی، جبکہ ایس ایم ابرار عبید کو تربیت میں دوسری بہترین کارکردگی پر چیف آف نیول اسٹاف گولڈ میڈل دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: روسی بحری جہاز 5 روزہ خیرسگالی دورے پر بنگلہ دیش پہنچ گیا

نئے کمیشنڈ افسران نے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا حلف اٹھایا جبکہ والدین اور معزز مہمانوں نے انہیں ایپیولیٹس لگا کر نیول افسران کے کور میں شامل ہونے کا اعزاز دیا۔ تقریب میں نیول ایوی ایشن کے میری ٹائم پیٹرول طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کا خصوصی فلائی پاسٹ بھی شامل تھا۔

نیوی کی جدیدیت اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ

نیول چیف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے جانباز مجاہدین اور نیول کمانڈوز کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نیوی تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی تھری ڈائی مینشنل فورس میں تبدیل ہورہی ہے جہاں تربیت میں سمیولیشن ٹیکنالوجی، جدید پلیٹ فارمز اور مقامی سطح پر دفاعی سازوسامان کی تیاری کو ترجیح دی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے سربراہ کا دورہ بنگلہ دیش، دوطرفہ بحری تعاون فروغ دینے پر اتفاق

انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی طور پر بڑے پیٹرول کرافٹ، لینڈنگ کرافٹ ٹینکس اور ڈائیونگ بوٹس تیار کیے جارہے ہیں، دوست ممالک سے ہیلی کاپٹرز، بغیر پائلٹ فضائی جہاز اور ملٹی کیپیبلٹی بحری جہاز حاصل کیے جارہے ہیں، سمندری سیکیورٹی، قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں، سمندر میں جرائم کی روک تھام اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

نیول چیف نے عالمی امن مشنز میں بنگلہ دیش نیوی کے کردار کو بھی سراہا۔

نئے افسران کے لیے پیغام

ایڈمرل نظم الحسن نے نئے کمیشنڈ افسران کو حب الوطنی، دیانت داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ قیادت کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ نیوی کے افسران کو ہمیشہ ملک کی سلامتی کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر آرمی اور ایئر فورس کے ساتھ مل کر قومی ایمرجنسی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

تقریب میں مسلح افواج کے سینیئر افسران، سرکاری شخصیات، معزز مہمانوں اور نئے افسران کے خاندانوں نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بنگلہ دیش کمیشن کیڈٹس لیفٹیننٹ نیول ہیڈ کوارٹر نیوی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کیڈٹس لیفٹیننٹ نیول ہیڈ کوارٹر نیوی بنگلہ دیش انہوں نے

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن