کراچی: پولیس کا غیر قانونی افغان باشندوں کیخلاف آپریشن، 45 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ اور الاآصف اسکوائر میں پولیس نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق، پولیس نے رات گئے علاقے میں گھیراؤ ڈال کر داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیے تاکہ کوئی مشتبہ شخص فرار نہ ہوسکے۔ کارروائی میں مختلف تھانوں کی نفری، انسداد دہشت گردی فورس اور ریزرو پولیس کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران گھروں، ہوٹلوں اور فلیٹس کی تلاشی لی گئی۔ اس دوران 45 افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا جن کے پاس کسی قسم کے قانونی دستاویزات یا شناختی کارڈ موجود نہیں تھے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار افراد طویل عرصے سے بغیر کسی قانونی اجازت کے علاقے میں مقیم تھے اور ان میں سے بعض مزدوری، دکانداری یا دیگر مقامی کاموں میں مصروف تھے۔ حکام نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کو مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی بائیو میٹرک تصدیق اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی حکومت کی ہدایت پر کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف مہم کو مؤثر بنایا جاسکے۔ مزید چھاپے اور تفتیش کا سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔