پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 76 ہزار سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 76 ہزار سے تجاوز کرگئی، 2030ء تک جدید گاڑیوں کی فروخت کا ہدف 30 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں الیکٹرک وہیکل پالیسی پر تفصیلی غور کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پالیسی میں تضادات موجود ہیں کیونکہ بجٹ منظوری کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس عائد کیا گیا جبکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو چھوٹ دی گئی۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پالیسی سے اتفاق کیا ہے 1.
سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکٹریکل وہیکل پالیسی سے ایک ارب ڈالر کی تیل کی امپورٹ کی بچت ہوگی، پاکستانیوں کی صحت کے حوالے سے 45 کروڑ ڈالر لاگت میں کمی آئے گی، 2024 تک پاکستان میں 76 ہزار سے زیادہ الیکٹریکل وہیکل گاڑیاں ملک میں موجود ہیں، الیکٹریکل وہیکل کی پیداوار کیلئے مختلف بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں، 2030ء تک الیکٹریکل گاڑیوں کی فروخت کا ہدف 30 فیصد رکھا گیا ہے، 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اڑھائی لاکھ روپے کی الیکٹریکل موٹر سائیکل پر 80 ہزار روپے کی سبسڈی ہوگی، چارجنگ اسٹیشنز کیلئے یونٹ کی قیمت 92 روپے سے کم کرکے 39 روپے 7 پیسے مقرر کی گئی ہے، چارجنگ اسٹیشنز کے مالکان کو اس حوالے سے اختیار دیا گیا وہ اپنی قیمت وصول کرسکتے ہیں، چارجنگ اسٹیشنز کو ادارہ ریگولیٹ کرے گا۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اس سال ایک لاکھ کی تعداد میں دو اور تین وہیلرز الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف مقرر ہے جس کے لیے سات گنا زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں پنجاب سے بہت زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چارجنگ اسٹیشن کے لیے ریگولیشنز جاری کی جائیں گی اگلے ایک سال میں بیٹریاں بھی مقامی سطح پر تیار ہونا شروع جائیں گی، دو سال میں پارٹس کو 100 فیصد مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی جائے گی اگر دو سال میں اسپیئر پارٹس کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ نہ ہوئی تو سبسڈی فراہم نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چارجنگ اسٹیشنز الیکٹرک گاڑیوں گاڑیوں کی کا ہدف
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔