لکی مروت میں خفیہ اطلاع پر کامیاب آپریشن، 8 خوارج مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 8 خوارج کو ہلاک اور 5 کو زخمی کر دیا۔ کارروائی 24 اکتوبر کو علاقے وانڈہ شیخ اللہ میں کی گئی، جہاں دہشتگردوں کو فرار کا کوئی موقع نہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے پر سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت آخری خوارجی کے خاتمے اور مکمل امن و امان کی بحالی تک آپریشنز جاری رہیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ٹانک میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی یافتہ 8 خوارج کو ہلاک کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی ٹانک خفیہ آپریشن خوارج لکی مروت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹانک خفیہ ا پریشن خوارج لکی مروت
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔