مودی حکومت پر ووٹر لسٹ میں جعل سازی کا سنگین الزام: خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے پردہ فاش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بھارت کے کرنالہ ضلع میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ نے 2023 کے انتخابات کے موقع پر ووٹر لسٹ میں کیے گئے بڑے پیمانے پر رد و بدل اور نام حذف کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 75 موبائل نمبرز کے ذریعے الیکشن کمیشن کے پورٹل پر جعلی اکاؤنٹس کے تحت درخواستیں دی گئیں۔ اس کارروائی میں ضلع کالبرگی کے ایک ڈیٹا سینٹر سے لیپ ٹاپ اور دیگر آلات ضبط کیے گئے۔
رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ کرناٹک کے الند حلقے میں ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہر ووٹر کا نام حذف کروانے کے لیے 80 روپے فی درخواست کی ادائیگی کی گئی، جس سے اس منظم مہم کی مالی مالیّت تقریباً 4.
رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے رہنماؤں سبھاش گٹیدار، ہرشنند اور سنتوش کے گھروں سے سات لیپ ٹاپس اور متعدد دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں۔ کانگریس کے رہنما رہول گاندھی نے اس رپورٹ کو ’’ووٹ چوری‘‘ کا اعتراف قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ بلاک بی جے پی دور میں ہر ووٹر کو 80 روپئے فی نام کے حساب سے خریدوفروخت کا حصہ تھی، جو جمہوریت کی توہین ہے۔
کانگریس ترجمان پون کھیرا نے کہا کہ یہ رپورٹ ووٹر لسٹ میں کی گئی ہیراپھیری کی ایک منظم اور فنڈڈ مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ووٹر لسٹ کے ذریعے منظم دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے ساتھ گٹھ جوڑ مودی حکومت کا سیاسی ہتھکنڈا ہے۔
یہ رپورٹ بھارت کی 2024 کی لوک سبھا انتخابات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں کرناٹک کے مہادیو پورہ حلقے میں کانگریس کی جانب سے 1 لاکھ سے زائد جعلی ووٹروں کا الزام عائد کیا گیا ہے، اور الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں وضاحت طلب کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کے مطابق
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔