کراچی میں 22ویں ہیلتھ ایشیا 2025 نمائش کامیابی سے اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
کراچی میں 22ویں ہیلتھ ایشیا 2025 نمائش کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔ ایس آئی ایف سی اور وزارتِ صحت کے اشتراک سے 22 ویں ہیلتھ ایشیا نمائش 23 تا 25 اکتوبر 2025 کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوئی ۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال اور بلوچستان کے صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی اختتامی تقریب میں خصوصی شرکت، ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت لئیق احمد نے نمائش میں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا۔ جدید ہیلتھ ٹیکنالوجی کے فروغ سے پاکستان کے صحت کے شعبے میں انقلابی پیش رفت کی بنیاد رکھی گئی۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق نجی و سرکاری شعبے کے تعاون سے صحت کے میدان میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ وزارتِ صحت اور اس کے ماتحت اداروں کی شرکت نے ہیلتھ ایشیا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ تین روزہ ایونٹ میں 60 ہزار سے زائد ماہرین، ڈاکٹرز، اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ 50 سے زائد غیر ملکی کمپنیوں نے جدید طبی آلات اور ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ نمائش کی کامیابی نے شعبۂ صحت میں جدت اور پائیدار ترقی کے نئے امکانات روشن کر دیے۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے شعبۂ صحت جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔