برسلز، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے تصویری نمائش
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
تصویری نمائش کا انعقاد 27 اکتوبر کو منائے جانے والے "یوم سیاہ" کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پاکستانی سفارتخانے میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی تصویری نمائش کا افتتاح کیا گیا۔ تصویری نمائش کا انعقاد 27 اکتوبر کو منائے جانے والے "یوم سیاہ" کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق "کشمیر کا یوم سیاہ، ایک بھولا ہوا سانحہ" کے عنوان سے نمائش کا افتتاح یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے کیا اور یہ ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔ نمائش میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے تصاویر اور اس بارے میں دیگر دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ سفیر رحیم حیات قریشی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے جب بھارت نے 1947ء میں اس دن تقسیم برصغیر کے فارمولے اور کشمیریوں کی خواہشات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے اور اس حوالے سے بھارت کا محاسبہ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسانی حقوق کی تصویری نمائش نمائش کا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :