پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالے افراد اغواء کار تھے، کوئٹہ پولیس
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ایس ایس پی عمران قریشی کے مطابق ہلاک ہونیوالے افراد کی شناخت کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جن سے انکشاف ہوا کہ تینوں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز فائرنگ میں ہلاک ہونے والے تین افراد اغواء کار تھے۔ پولیس کے مطابق بروری پولیس اسٹیشن کی حدود میں تین مشتبہ افراد فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئے۔ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور وہ گاڑی بھی برآمد کی گئی، جو اغواء کی وارداتوں میں استعمال کی جاتی تھیں۔ ایس ایس پی سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ عمران قریشی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جن سے انکشاف ہوا کہ تینوں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اغواء کاروں کے دو ساتھی فائرنگ کے دوران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ہونے والے دو ملزمان کی شناخت نواب علی اور احمد سلطان کے نام سے ہوئی جبکہ تیسرے ملزم کی شناخت کے لیے نادرا کی مدد لی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ریکارڈ اور تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ تینوں ملزمان کوئٹہ پولیس کو متعدد اغواء کے مقدمات میں مطلوب تھے اور ایک اغواء برائے تاوان کے گروہ کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروہ نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ڈرائیور عبدالرازق کو اغواء کیا تھا، جسے 16 لاکھ روپے تاوان وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔ اسی گروہ نے قلعہ عبداللہ کے تاجر بشیر احمد کو 80 لاکھ روپے تاوان کے عوض، جبکہ کوئٹہ کے رہائشی عرفان بیگ کو ایک کروڑ روپے تاوان لینے کے بعد چھوڑا تھا۔ ایس ایس پی کے مطابق ہلاک ملزمان کے خلاف تھانہ صدر میں دو، جناح ٹاؤن میں تین، اور انڈسٹریل پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کیس کی مزید تفتیش کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس ایس پی کی شناخت کے مطابق انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔