کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، وفاقی وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
لاہور:
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، نوجوانوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے لیکن کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پنجاب پیڈل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم نوجوانوں کو مزید سہولیات فراہم کریں، پاکستان میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ کھیل میں سیاست نہیں ہونی چاہیے، پیڈل کو ملک کے اندر مقام مل رہا ہے، پاکستان نے کھیل کے شعبے میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سپر مارکیٹ میں پیڈل کورٹس بنائے گئے ہیں، سی ڈی اے نے کھیلوں کی بہترین سہولیات فراہم کی ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پیڈل کی پروموشن کے لیے کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو کھیل کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرتے ہوئے مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا چاہیے اور نجی شعبے کو بھی کھیلوں کے فروغ کے لیے آگے آنا چاہیے اور
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر فخر ہے، مسلح افواج نے ہمیشہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں بہتری آئی ہے، سبز پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نوجوانوں کو وفاقی وزیر نے کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔