Jasarat News:
2026-07-24@02:12:48 GMT

پاکستان اسٹیل ملازمین کے بکھرے خواب

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے مشرقی ساحلی پٹی پر واقع گلشن حدید اور اسٹیل ٹاؤن کبھی پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کے لیے امیدوں اور خوشحالی کے مسکن سمجھے جاتے تھے۔ یہاں روزگار، سہولیات اور سکون بیک وقت میسر تھے۔ 1970 کی دہائی میں پاکستان اسٹیل ملز کے قیام کے ساتھ ان بستیوں کی بنیاد رکھی گئی۔ اسٹیل ملز کا باقاعدہ افتتاح 1985 میں ہوا، جہاں لگ بھگ 18 ہزار ملازمین خدمات انجام دیتے تھے۔ انتظامیہ اور مزدور یونینز کے باہمی معاہدے کے تحت گلشن حدید کو مختلف فیزز میں ترقی دی گئی، اور فیز 4 تک ہزاروں خاندان آباد ہو گئے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ ترقی زوال میں بدلتی چلی گئی۔ 1990 کی دہائی کے بعد انتظامی نااہلی، سیاسی مداخلت اور بدعنوانی نے اس قومی اثاثے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ 2015 تک صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ اسٹیل ملز کی پیداوار مکمل طور پر بند ہو گئی۔ مشینیں زنگ آلود ہو گئیں، اور ہزاروں مزدور بے روزگار کر دیے گئے وہ مزدور جو کبھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے، آج محرومی اور مایوسی کی علامت بن گئے اسٹیل ملز کی بندش نے نہ صرف صنعتی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ گلشن حدید اور اسٹیل ٹاؤن کی زندگی کو بھی بے روح کر دیا۔ بجلی، پانی، صفائی اور سیوریج کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ گزشتہ 8برسوں سے ان علاقوں کے مکین شدید پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ سرکاری فراہمی بند ہونے کے بعد لوگ یا تو کھارا زیرِ زمین پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں یا پھر بھاری قیمت پر واٹر ٹینکر خریدتے ہیں، جن کی قیمت 3500 سے 5000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ نتیجتاً، درجنوں خاندان شدید معاشی اور ذہنی دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مزدور یونینز، جنہیں محنت کشوں کی آواز ہونا چاہیے تھا، سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کے باعث کمزور ہو گئیں۔ یونین رہنماؤں نے پارٹی وابستگیوں کو ترجیح دی اور مزدوروں کے اصل مسائل پسِ پشت ڈال دیے۔ احتجاج، جلسے اور دھرنے جو مزدوروں کے حقوق کے لیے ہونے چاہیے تھے۔سیاسی مقاصد کے اوزار بن گئے۔ نتیجتاً، مزدوروں میں مایوسی بڑھتی گئی اور جدوجہد بے نتیجہ ثابت ہوئی سیاسی جماعتوں کا کردار بھی متنازعہ رہا۔ ہر حکومت اپنے دورِ اقتدار میں اسٹیل ملز کی بحالی یا نجکاری کے وعدے کرتی رہی، مگر عملی اقدام کسی نے نہ اٹھایا۔ اقتدار سے باہر آتے ہی وہی جماعتیں مزدوروں کے ساتھ احتجاجی صفوں میں کھڑی نظر آئیں۔ اس تضاد نے محنت کش طبقے کی تکالیف میں مزید اضافہ کر دیا۔ آج گلشن حدید اور اسٹیل ٹاؤن کی خالی گلیاں، ٹوٹی عمارتیں اور اجڑے راستے ایک انسانی المیے کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ملازمین کے بقایاجات اور پنشن کے وعدے محض کاغذوں تک محدود ہیں۔ کئی سابقہ ملازمین صدمے اور بیماریوں کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ جو زندہ ہیں وہ غربت، بیماری اور بے روزگاری سے لڑ رہے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سنجیدہ اقدامات کرے۔ اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے ایک خودمختار کمیشن قائم کیا جائے، جس میں سیاسی مداخلت سے پاک انتظامیہ شامل ہو۔ مزدوروں کے بقایاجات اور پنشن کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے، اور گلشن حدید و اسٹیل ٹاؤن میں پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ پاکستان اسٹیل ملز اور اس سے منسلک یہ علاقے صرف ایک صنعتی ادارے یا رہائشی کالونی کی کہانی نہیں، بلکہ یہ قومی اداروں کے زوال، حکومتی بے حسی اور مزدور طبقے کی جدوجہد کی علامت ہیں۔ اگر اب بھی دیانتداری اور نیک نیتی سے اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ علاقے رفتہ رفتہ ‘‘شہرِ خموشان’’ میں بدل جائیں گے۔

سامی میمن گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اسٹیل اسٹیل ملز کی اسٹیل ٹاو ن مزدوروں کے گلشن حدید اور اس کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن