وزیراعظم آزاد کشمیر کو عدم اعتماد کا سامنا، کیا آج مستعفی ہو جائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا ہے اور پیپلز پارٹی نے ریاست میں اپنی حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ رات پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ڈنر کا اہتمام کیا جس میں 27 ارکان قانون ساز اسمبلی نے شرکت کی، اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے بھی 27 ارکان کی ہی ضرورت ہے۔
گزشتہ روز پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان اسمبلی نے فریال تالپور سے ملاقات کے بعد تحریک عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے بندے پورے کر لیے، سردار تنویر الیاس
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق آج مظفرآباد میں اہم پریس کانفرنس کریں گے، جس میں وہ متوقع طور پر مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم انوارالحق اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا تھا کہ میرے خلاف اگر 27 ارکان اسمبلی ایک جگہ بیٹھ کر چائے بھی پئیں گے تو گھر چلا جاؤں گا۔
یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا حصہ نہیں بنے گی، راجہ فاروق حیدر
باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق پریس کانفرنس میں مستعفی ہونے کا اعلان کریں گے۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دی تھی۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں نئے قائد ایوان کے انتخاب کی صورت میں، 2021 کے عام انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی 4 سال کے دوران چوتھا وزیراعظم منتخب کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چوہدری انوارالحق تحریک عدم اعتماد کا اعلان
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں