Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:22:02 GMT

ارجنٹینا میں 7 کروڑ سال پرانا ڈائنوسار کا انڈہ دریافت

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

ارجنٹینا میں 7 کروڑ سال پرانا ڈائنوسار کا انڈہ دریافت

ارجنٹینا کے پیٹاگونیا علاقے میں سائنسدانوں نے ایک نایاب اور غیر معمولی محفوظ شدہ ڈائنوسار کا انڈہ دریافت کیا ہے، جس کی عمر تقریباً 70 ملین سال بتائی جا رہی ہے۔ یہ دریافت کریٹاسیئس دور کی زندگی کی ایک منفرد جھلک پیش کرتی ہے۔
انڈہ شمالی پیٹاگونیا کے ریو نیگرو کے گرد آلود میدانوں سے ملا اور شکل و سائز میں جدید شتر مرغ سے مشابہت رکھتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لاکھوں سال گزرنے کے باوجود اس کی حالت تقریباً محفوظ اور تازہ نظر آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انڈہ Bonapartenykus نامی چھوٹے گوشت خور تھیروپوڈ ڈائنوسار کا ہے، جو کبھی اس علاقے میں رہتا تھا۔ یہ جنوبی امریکا میں دریافت ہونے والے سب سے زیادہ محفوظ ڈائنوسار کے انڈوں میں شامل ہے۔
ارجنٹینا میوزیم آف نیچرل سائنسز کے ماہر گونزالو میوز کا کہنا ہے کہ شکاری ڈائنوسار کے انڈے انتہائی نایاب ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سبزی خوروں کے مقابلے میں کم پائے جاتے تھے اور زیادہ نازک ہوتے تھے۔ انڈے کی اس بہترین حالت میں دریافت واقعی ایک تاریخی اور غیر معمولی لمحہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ

امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں 20 سے 30 سال کے درمیان کی نوجوان خواتین میں ‘ٹائپ 2 ذیابیطس’ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے 2011 سے 2024 تک کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی وبا (کورونا) کے بعد موٹاپے کی شرح میں ہونے والا اضافہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ایک موذی مرض ہے جو دل کے دورے اور فالج جیسے شدید نوعیت کے طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ‘ذیابیطس یو کے’ نامی خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ جب یہ بیماری کم عمری میں لاحق ہوتی ہے تو اس کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوتا ہے، جس سے انسانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچنے اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت

ادارے کا کہنا ہے کہ طویل المدتی اعصابی و جسمانی نقصان سے بچنے کے لیے خطرے کی زد میں موجود افراد کی وقت پر تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کو متوازن غذا اور وزن کنٹرول میں رکھ کر بغیر دواؤں کے بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والے جدید انجیکشنز اور ادویات (GLP-1) بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد ذیابیطس کے مریض ہیں جن میں سے 90 فیصد ‘ٹائپ 2’ کے شکار ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتی ہے اور نئے کیسز میں بڑا تناسب انہی کا ہے، تاہم اس وقت 30 سال سے کم عمر کے 12 ہزار افراد بھی اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔

بیماری کی اہم علامات

اس بیماری کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ کا احساس ہونا، معمول سے زیادہ پیشاب آنا اور  مسلسل پیاس لگنا شامل ہیں۔

نوجوانوں اور خصوصاً خواتین میں تیز رفتار اضافہ

امپیریل کالج کے محققین نے انگلش نیشنل ذیابیطس آڈٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد میں اس بیماری کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن 40 سال سے کم عمر افراد میں یہ گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں دیکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں ‘باڈی ماس انڈیکس’ (BMI) کی شرح میں بڑی عمر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ اس بیماری کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ این ایچ ایس کے الگ ڈیٹا کے مطابق، انگلینڈ میں وبا کے بعد سے ہر 3 میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے، اور 2019 سے 2025 کے درمیان 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کے کیسز 16 فیصد جبکہ 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں تقریباً 20 فیصد بڑھے ہیں۔

ماہرین کی تشویش

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں کم عمری ہی سے شدید موٹاپے کا رجحان انہیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی طرف دھکیل رہا ہے اور مریضوں کی اوسط عمر کو نیچے لا رہا ہے۔ کم عمری میں ذیابیطس کے بھیانک نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر شیوانی کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماری زیادہ تر اقلیتی نسلی گروہوں میں پھیل رہی ہے، لیکن نئے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گندمی اور سفید فام  آبادی بھی اس کی زد میں آ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام صحت کا ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

احتیاطی تدابیر اور مزید تحقیقات

‘ذیابیطس یو کے’ نے زور دیا ہے کہ دورانِ حمل ‘جسٹیشنل ذیابیطس’ کا شکار ہونے والی ماؤں کی پیدائش کے بعد بہتر دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ ان میں آگے چل کر ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم اس حوالے حتمی شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذیابیطس ٹائپ 2

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت