قائدِ حزبِ اختلاف آزاد جموں و کشمیر، خواجہ فاروق حیدرنے وزیراعظم چوہدری انوار الحق پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتِ عظمیٰ گئی تو پی ٹی آئی کے دروازے بھی بند ہوگئے، مگر اپوزیشن چیمبر سب کے لیے کھلا ہے۔

اپنے ایک بیان میں خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ وزیراعظم کے اپنے ساتھی ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں، جنہیں وہ فخر سے اپنا کہتے تھے، وہ اب دوسری جماعتوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کوئی بھی وزیراعظم کو اپنے ساتھ لینے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: مسلم لیگ ن کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان، اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ

قائد حزبِ اختلاف نے مزید کہا کہ چوہدری انوار الحق کے ساتھ سب سے بڑا ظلم ان کے اپنے ساتھیوں نے کیا۔ اب وزیراعظم کے قریبی لوگ بھی اپوزیشن بنچوں کے قریب آ رہے ہیں، اپوزیشن چیمبر میں سب کے لیے کرسی خالی ہے، ویلکم۔

خواجہ فاروق احمد نے دعویٰ کیا کہ 5 سال پورے نہیں ہوئے مگر حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اپنے ہی وزرا آج اپوزیشن کے مؤقف سے اتفاق کر رہے ہیں۔ یہی اپوزیشن چیمبر اب سابق حکومتی وزرا کی پناہ گاہ بننے جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کل بادشاہ کے ساتھ تھے، آج بادشاہت کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم دروازے بند نہیں کرتے، سب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ چیمبر سب کے لیے کھلا ہے جو اقتدار چھوڑ کر حقیقت دیکھنا چاہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر اپوزیشن تحریک انصااف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اپوزیشن چیمبر خواجہ فاروق رہے ہیں کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت