پیپلز پارٹی کے ایم این اے ذوالفقار علی کے گھر ڈکیتی، ڈاکو اہلخانہ کو یرغمال بناکر گھر کا صفایا کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے ایم این اے ذوالفقار علی کے گھر ڈکیتی، ڈاکو اہلخانہ کو یرغمال بناکر گھر کا صفایا کرگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
نوشہرو فیروز(آئی پی ایس )سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ذوالفقار علی کے گھر ڈاکووں نے صفایا کردیا۔ایم این اے ذوالفقار علی کے مطابق 4مسلح ڈاکو رات گئے دیوار توڑ کرگھرمیں داخل ہوئے اور رات ڈھائی سے 5بجے تک اہلخانہ کو یرغمال بنائے رکھا۔
ممبر قومی اسمبلی نے بتایا کہ ڈاکو زیورات، نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کرلے گئے، اس دوران ڈاکو گاڑی بھی لے گئے جو بعد میں مورو بائی پاس پر چھوڑگئے جب کہ واردات کے دوران گھر کے باہر بھی ڈاکووں کے ساتھی موجود تھے۔ذوالفقار علی نے کہا کہ یہ ڈکیتی کی ورادات ہے،کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، وزیراعلی سندھ، وزیرداخلہ اور ڈی آئی جی نے فون پرواقعے کی تفصیلات معلوم کی ہیں اور پولیس واقعے کی تحقیقات اور ڈاکووں کو تلاش کررہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکے الیکٹرک سے متعلق نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے، پاور ڈویژن کے الیکٹرک سے متعلق نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے، پاور ڈویژن علیمہ خان کے مسلسل عدم پیشی پر پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری گورنر خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط ،گندم کی نقل و حرکت پر پابندی پر مداخلت کی درخواست پیرودھائی کے علاقے میں تاجروں کا پیرا فورس کیخلاف شدید احتجاج آئندہ انتخابات میں جوڈیشل افسران کو بطور ریٹرننگ افسران لگانے کی سفارش سعودی عرب کا پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ذوالفقار علی کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔