بابر اعظم کی شمولیت سے ٹیم کو فائدہ ہوگا: سلمان آغا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
قومی ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کہتے ہیں کہ ایشیاءکپ میں کافی کچھ سیکھا ہے۔غلطیوں سے سیکھ کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاری کریں گے۔غلطیوں پر بات ضرور کی جاتی ہے، کیونکہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے۔ بابر اعظم ورلڈکلاس کھلاڑی ہیں، شمولیت پر ٹیم کو فائدہ ہوگا۔
پاکستانی ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جس بھی گراؤنڈ میں جائیں اس کے اسٹیٹس دیکھتےہیں۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ تک اسٹریٹیجی یہی رہےگی۔گراؤنڈ کے اوسط اسکوار سے زیادہ رنز کرنے کی کوشش کرتےہیں۔
اپنی کارکردگی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی انفرادی پرفارمینس حالیہ دو تین سیریز سے اچھی نہیں ہے۔ان کی کوشش ٹیم کو جیتوانے کی ہوگی۔
سابق کپتان بابر اعظم سے متعلق بات ان کا کہنا تھا کہ بابراعظم ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں، ان کے پاس سو سے زیادہ میچز کا تجربہ ہے۔سابق کپتان کی شمولیت پر ٹیم کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مائک ہیسن انہیں پیغام نہیں بھیجتے۔وہ خود گراؤنڈ میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر ٹی ٹوئنٹی میں ضرورت پڑی تو بولنگ ضرور کرائیں گے۔ لیکن ان کی پہلی ترجیح بیٹنگ کی طرف ہوتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کپتان کا کہنا تھا کہ ڈیتھ باؤلنگ میں بہتری کرنے کی ضرورت ہے۔بیٹرز کو اسٹرائیک ریٹ پر کام کرنا ہے۔ عبدالصمد، حسن نواز، محمد نواز پاورہٹنگ کےلیے استعمال ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔