Jasarat News:
2026-06-03@05:13:35 GMT

شرح سود برقرار رکھنے پر عاطف اکرام شیخ کی تنقید

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-06-26

 

کراچی(بزنس رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں” معاشی ترقی کے  اہداف کے بر خلاف”قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچے گا اور مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ موجودہ افراطِ زر کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد تک لایا جانا چاہیے ؛تاکہ ،معاشی حقائق کے مطابق فیصلہ سازی نظر آئے اور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر شرح سود میں فیڈریشن کی تجاویز کے مطابق کمی کر دی جاتی تو حکومت کے قرضوں کا بوجھ تقریباً 3,500 ارب روپے تک کم ہو سکتا تھا؛ جس سے حکومتی مالیاتی دباؤ میں نمایاں کمی آتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح 5.

6 فیصد تک گر چکی ہے۔ پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرح سود سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ترقی اور مسابقت کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بلند شرح سود پیداواری لاگت میں اضافہ کرتی ہے؛ جس سے افراطِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تو پیداواری لاگت میں کمی آئے گی؛ اشیائے ضرورت سستی ہوں گی اور افراطِ زر میں مزید کمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلند شرح سود کی وجہ سے کاروبار کرنے کے لیے مالی وسائل تک رسائی محدود ہو جاتی ہے؛ جس سے معاشی سرگرمیاں سست پڑتی ہیں۔سنیئر نائب صدر نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ان وعدوں کی بھی یاد دہانی کروائی کہ کچھ ہی مہینوں میں شرح سود میں کمی لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کے لیے ایک مایوس کن اقدام ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ، عبدالمہیمن خان نے خبردار کیا کہ شرح سود کو برقرار رکھنا کاروباری ماحول کو مزید خراب کرے گا؛ سرمایہ کاری میں کمی لائے گا اور معاشی بحالی کے عمل کو سست کردے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور ایسے اقدامات کرے کہ جو کاروبار کرنے میں سہولت فراہم کریں؛ قرضوں کی لاگت کم ہواور معیشت کو فروغ حاصل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی کہ جس میں شرح سود سنگل ڈیجٹ ہو وہ ملکی صنعتی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرے اور اپنی پالیسیوں کو معیشت کی ضروریات کے مطابق ڈھالے۔

 

کامرس رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کے مطابق انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی

سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔

انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔

@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachi

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟

اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔

مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد