Jasarat News:
2026-06-03@02:23:41 GMT

شرح سود برقرار رکھنے پر عاطف اکرام شیخ کی تنقید

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

 

کراچی(بزنس رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں” معاشی ترقی کے  اہداف کے بر خلاف”قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کاروباری اعتماد کو نقصان پہنچے گا اور مجموعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ موجودہ افراطِ زر کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 7 فیصد تک لایا جانا چاہیے ؛تاکہ ،معاشی حقائق کے مطابق فیصلہ سازی نظر آئے اور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر شرح سود میں فیڈریشن کی تجاویز کے مطابق کمی کر دی جاتی تو حکومت کے قرضوں کا بوجھ تقریباً 3,500 ارب روپے تک کم ہو سکتا تھا؛ جس سے حکومتی مالیاتی دباؤ میں نمایاں کمی آتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں مہنگائی کی شرح 5.

6 فیصد تک گر چکی ہے۔ پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بلند شرح سود سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ترقی اور مسابقت کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بلند شرح سود پیداواری لاگت میں اضافہ کرتی ہے؛ جس سے افراطِ زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر شرح سود کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے تو پیداواری لاگت میں کمی آئے گی؛ اشیائے ضرورت سستی ہوں گی اور افراطِ زر میں مزید کمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلند شرح سود کی وجہ سے کاروبار کرنے کے لیے مالی وسائل تک رسائی محدود ہو جاتی ہے؛ جس سے معاشی سرگرمیاں سست پڑتی ہیں۔سنیئر نائب صدر نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ان وعدوں کی بھی یاد دہانی کروائی کہ کچھ ہی مہینوں میں شرح سود میں کمی لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کے لیے ایک مایوس کن اقدام ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ، عبدالمہیمن خان نے خبردار کیا کہ شرح سود کو برقرار رکھنا کاروباری ماحول کو مزید خراب کرے گا؛ سرمایہ کاری میں کمی لائے گا اور معاشی بحالی کے عمل کو سست کردے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور ایسے اقدامات کرے کہ جو کاروبار کرنے میں سہولت فراہم کریں؛ قرضوں کی لاگت کم ہواور معیشت کو فروغ حاصل ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور کاروبار دوست مالیاتی پالیسی کہ جس میں شرح سود سنگل ڈیجٹ ہو وہ ملکی صنعتی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرے اور اپنی پالیسیوں کو معیشت کی ضروریات کے مطابق ڈھالے۔

 

کامرس رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کے مطابق انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد