مشرقی ایشیاء سربراہی اجلاس نے خطے میں تیز رفتار ترقی کو فروغ دیا ہے، چینی وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
مشرقی ایشیاء سربراہی اجلاس نے خطے میں تیز رفتار ترقی کو فروغ دیا ہے، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 October, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے ملائیشیا کے دارلحکومت کوالالمپور میں منعقدہ 20 ویں مشرقی ایشیاء سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔منگل کے روز چینی میڈیا کے مطابقلی چھیانگ نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں اس سمٹ نے مجموعی طور پر تعمیری کردار ادا کیا ہے اور خطے میں استحکام اور تیز رفتار ترقی کو فروغ دیا ہے۔
صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو مشرقی ایشیاء سمٹ کے بنیادی مقاصد سے انتہائی مطابقت رکھتا ہے۔لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر فعال اقدامات کرنے اور علاقائی امن اور ترقی میں مزید مثبت توانائی پیدا کرنے کے حوالے سے مشترکہ کوششوں کے لیے تیار ہے۔اس میں پہلی بات یہ کہ وسیع اتفاق رائے کو برقرار رکھنا چاہِئے۔ باہمی احترام، مساوی سلوک اور انصاف جیسے اصول بین الاقوامی تعلقات کی اہم بنیاد ہیں۔ معاشی عالمگیریت اور دنیا کی کثیر القطبی ساخت ناگزیر ہے۔
ہمیں ان بنیادی تصورات پر عمل کرنا چاہیے جو تمام انسانیت کی مشترکہ اقدار اور تاریخی ترقی کے رجحان کے عین مطابق ہیں۔ دوسرا، نمایاں مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ہمیں آزاد تجارتی نظام کے تحفظ کو مزید مضبوطی سے برقرار رکھنا چاہیے، تاکہ علاقائی یکجہتی کو مؤثر اور مضبوط طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ ہمیں عوامی بہبود میں اضافہ کے حوالے سے مسلسل مزید مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں، تاکہ جامع اور ہمہ گیر ترقی حاصل کی جا سکے۔ تیسرا، قوانین کے نظام میں اصلاحات اور بہتری لانا ہے۔
ہمیں اجتماعی طور پر قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے، خاص طور پر اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر مبنی بین الاقوامی نظام کی حفاظت کرنی چاہیے اور علاقائی ڈھانچے میں آسیان کی مرکزی حیثیت کی حمایت کرنی چاہیے۔ ہمیں زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی نظام حکمرانی کی تشکیل کے لیے فعال طور پر کوشش کرنی چاہیے۔اجلاس میں “مشرقی ایشیاء سمٹ کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر کوالالمپور اعلامیہ” اور “مشرقی ایشیاء سمٹ کی جانب سے آفات کی تیاری اور ردعمل کے لیے مقامی سطح پر روک تھام کی کارروائیوں کو مضبوط بنانے سے متعلق رہنماؤں کا بیان ” منظور کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچائنا میڈیا گروپ کے زیراہتمام “جدت، کھلا پن اور مشترکہ ترقی” کے عنوان سے عالمی مکالمے کا انعقاد اگلی خبراستنبول مذاکرات تاحال بے نتیجہ ، افغان وفد کا پاکستان کے جائز مطالبات ماننے سے انکار اسرائیلی آرمی چیف کا حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنےکا اعلان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، اسرائیل کے غزہ پر حملے، 8 فلسطینی شہید رواں سال کا طاقتور ترین طوفان کیریبین جزائر پر اثر انداز ہونا شروع، اب تک 3 افراد ہلاک ترکیہ کے مغربی حصے میں 6.1 شدت کا زلزلہ،شہری خوفزدہ چائنا میڈیا گروپ کے زیراہتمام “جدت، کھلا پن اور مشترکہ ترقی” کے عنوان سے عالمی مکالمے کا انعقاد یرغمالیوں کی لاشوں کی تلاش، اسرائیل نے مصری ٹیم کو داخلے کی اجازت دے دی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشرقی ایشیاء
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔