قانونی اور غیر قانونی اسلحہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف ایک مہم چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت عوام کو پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنا غیر قانونی اسلحہ رضاکارانہ طور پر تھانوں میں جمع کروا دیں۔ ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جائے گی۔
اس کے بعد ایک مہم شروع کی جائے گی۔ میں اس کے حق میں ہوں۔ غیر قانونی اسلحہ رکھنا ویسے بھی جرم ہے۔ اس کے خلاف ہر وقت مہم چلنی چاہیے۔ اس کی کبھی کسی بھی وقت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
سوال تو قانونی اسلحہ کا ہے۔ ہر با اثر آدمی نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کے بے تحاشہ لائسنس حاصل کر لیے ہوئے ہیں۔ اسلحہ کے لائسنس ماضی میں سیاسی رشوت کے طور پر بھی دیے جاتے رہے ہیں اور رشوت سے بھی ملتے رہے ہیں۔
آپ کو کتنے لائسنس چاہیے، مل جائیں گے۔ بس رشوت دیں، سارا کام ایجنٹ کرے گا۔ لائسنس گھر پہنچ جائے گا۔ ارکان اسمبلی بھی اپنے لوگوں میں لائسنس بانٹتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ہر رکن قومی اسمبلی کا کوٹہ ہے۔ پنجاب میں بھی اسلحہ لائسنس کی لوٹ سیل رہی ہے۔ پنجاب سے بھی کوئی کم لائسنس جاری نہیں ہوئے ہیں۔
جب آپ کے پاس چند لائسنس آجاتے ہیں تو آپ چند بندوقیں اور پستول بغیر لائسنس کے بھی رکھ لیتے ہیں۔ اس لیے میری نظر میں قانونی اور غیر قانونی اسلحہ دونوں ہی خطرناک ہیں، دونوں کی ہی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔
معاشرہ میں اسلحہ صرف حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہی ہونا چاہیے۔ عوام میں اسلحہ کی دوڑ امن وامان کے لیے کوئی خوش آیند نہیں۔ اگر ہم معاشرے کو اسلحہ سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قانونی اور غیر قانونی دونوں قسم کے اسلحہ ختم کرنے ہوں گے۔
یہ تو نہیں ہو سکتا کہ معاشرے کا ایک حصہ قانونی اسلحہ رکھ لے اور دوسرا نہ رکھ سکے۔ اسی لیے تو اسلحہ ضرورت سے زیادہ اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔ لوگ اپنی اہمیت بتانے کے لیے بھی اسلحہ رکھتے ہیں۔
جب تک آپ کے ساتھ اسلحہ بردار لوگ نہ ہوں آپ اہم آدمی سمجھے ہی نہیں جا سکتے۔ لوگ پروٹوکول کے بھوکے ہیں اور اسلحہ کے بغیر پروٹوکول کی کوئی شان نہیں۔ اس لیے اگر معاشرہ سے اسلحہ ختم کرنا ہے تو غیر قانونی کے ساتھ ساتھ قانونی اسلحہ بھی ختم کرنا ہوگا۔
اسلحہ کے حوالے سے ایک قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر تو پابندی لگا دی گئی ہے لیکن اسلام آباد سے جاری ہو رہے ہیں۔ ملک کے دیگر صوبوں سے جاری ہو رہے ہیں۔ اگر اسلحہ کی دوڑ ختم کرنی ہوگی تو پورے ملک سے ختم کرنی ہوگی۔
لیکن پہلے مرحلہ میں پنجاب کی بات کریں تو کم از کم اسلام آباد کو پورے ملک کے لیے اسلحہ لائسنس جاری کرنے بندکرنے ہوں گے۔ اسلام آباد کے پاس صرف اسلام آباد کے لیے اختیار ہونا چاہیے۔ کس صوبہ میں اسلحہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے یہ معاملہ صوبے پر چھوڑ دیں۔
یہ بات میں اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ کے پی کے لوگ اسلحہ کو اپنا زیور قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنا زیور کے پی میں رکھیں‘ جب پنجاب آئیں اپنا زیور گھر چھوڑ کر آئیں، جب پنجاب آئیں تو اسلحہ کے بغیر آئیں۔
اسی طرح بلوچستان میں بھی اسلحہ کا ایک رواج نظر آتا ہے۔ وہاں سرداروں نے اپنی نجی ملیشیا بھی بنا رکھی ہے۔ اس لیے بلوچستان والے اپنا اسلحہ بلوچستان رکھ کر آئیں۔ پنجاب آئیں تو اپنی نجی ملیشیا اور اسلحہ نہ لائیں، انھیں یہاں لانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ ان کے بچے یہاں بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں، ان کے پاس بھی گارڈ ہیں، وہ بھی ختم ہونا چاہیے۔
ان کے گھروں پر بھی بلوچستان سے آئے اسلحہ بردار گارڈ ہیں، وہ بھی ختم ہونا چاہیے۔ یہ بھی دہشت کی علامت ہیں۔ اس لیے ہمیں سب کو ختم کرنا ہوگا۔ اسلحہ نہ رکھنے کا قانون صرف پنجابیوں کے لیے تو نہیں ہو سکتا۔ باقی سب کو اجازت، پنجابیوں ہی کو پنجاب میں اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ یہ تو کوئی انصاف نہیں۔
پنجاب کو ہر قسم کے اسلحہ سے پاک کرنا ہوگا۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ دشمنیوں کے جاری رہنے کی ایک وجہ اسلحہ بھی ہے۔ جب اسلحہ نہیں ہوگا تو دشمنیاں بھی نہیں چل سکیں گی۔ جب دونوں فریقین کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا تو دونوں کو خطرہ نہیں ہوگا۔ میں سمجھ سکتا ہوں یہ ایک دن میں ممکن نہیں۔
اس لیے سب سے پہلے لاہور کو اسلحہ سے پاک شہر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ لاہور میں کسی کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں ہونا چاہیے۔ لاہور کو اسلحہ فری شہر قرار دینا چاہیے کہ یہاں کسی کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہوگا۔
اس ضمن میں اسلحہ ڈیلر کی دکانیں اور ان کے لائسنس بھی ختم کرنے ہوں گے۔ صوبہ بھر میں اسلحہ ڈیلر ہی قانونی اور غیر قانونی اسلحہ فراہم کرتے ہیں، گھر تک پہنچاتے ہیں، ان کے بغیر اسلحہ کی ڈیل ممکن نہیں۔ میں مانتا ہوں لوگ اسلحہ کے لیے قبائلی علاقوں میں جاتے تھے۔ لیکن اب یہ رواج ختم ہوگیا۔
کوئی پنجابی اب وہاں نہیں جاتا۔ ایک وقت تھا پنجاب کے لوگ باڑہ میں خریداری کرنے بھی جاتے تھے اب نہیں جاتے۔ اب ہر شہر میں خیبرپختونخوا کے لوگوں نے باڑہ بنا لیا ہے۔ اسی طرح اسلحہ کی ڈیلر شپ بھی حا صل کر لی ہیں، یہیں سے قانونی اور غیر قانونی اسلحہ ملتا ہے۔
اسمگل اسلحہ بھی ملتا ہے، امپورٹڈ اسلحہ بھی ملتا ہے۔ اس لیے جب تک اسلحہ ڈیلر موجود ہیں، اسلحہ کے خلاف کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اتنے زیادہ اسلحہ ڈیلروں کی کیا ضرورت ہے۔ ان کے بھی لائسنس منسوخ کرنے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ اگر آپ کی دشمنیاں ہیں تو صلح کر لیں۔ اگر صلح نہیں کرنی تو دبئی چلے جائیں۔ میں سمجھتا ہوں ریاست یہ مشورہ نہیں دے سکتی کہ آپ ملک چھوڑ جائیں۔ ملک میں رہنے کا حق یکساں ہے۔ جتنا حق حکومت کے نمایندوں کے پاس ملک میں رہنے کا ہے اتنا ہی حق ملک میں رہنے کا سب کے پاس ہے۔ دشمنیوں کو قانون کے دائرے میں رہنا ہوگا۔
لوگوں کو تنازعات قانون کے دائرے میں حل کرنا ہوں گے۔ قانون کی عمل داری کو اگر یقینی بنایا جائے گا تو دشمنیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ یہاں عدالتیں فیصلے نہیں کرتیں، اسی لیے دشمنیاں بڑھتی ہیں۔
سی سی ڈی بھی تو اسی لیے بنائی گئی ہے کہ حکومت خود عدالتی نظام سے مایوس ہے۔ حکومت کو بھی یہی گلہ ہے مجرموں کو سزا نہیں ملتی۔ مجرم بڑی مشکل سے پکڑے جاتے ہیں اورعدالتیں چھوڑ دیتی ہیں۔ ضمانتیں ہو جاتی ہیں۔
لوگوں کو بھی یہی گلے ہیں۔ان کے مجرم چھوٹ جاتے ہیں۔ پھر ان کی جان کو خطرہ ہوجاتا ہے۔اس لیے جب تک انصاف نہیں ہوگا دشمنیاں کیسے ختم ہونگی۔ لوگ قانون سے نہیں ڈریں گے۔ صرف سی سی ڈی کا ڈر کافی نہیں۔ عدالتوں کا بھی خوف ہونا چاہیے۔ تب ہی یہ مہم کامیاب ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قانونی اور غیر قانونی اسلحہ اسلام ا باد اسلحہ ڈیلر ہونا چاہیے اسلحہ نہیں اسلحہ بھی اسلحہ رکھ نہیں ہوگا کرنا ہوگا اسلحہ کی اسلحہ کے نہیں ہو بھی ختم کے خلاف رہے ہیں ختم ہو ہوں گے کے لیے اس لیے کے پاس
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔