کے الیکٹرک سے متعلق نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے، پاور ڈویژن WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز

کراچی(آئی پی ایس ) نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئرٹیرف پر ریویو فیصلے پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ فیصلہ کراچی کے صارفین کے خلاف نہیں بلکہ ان کے مفاد میں ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں کمی کے فیصلے پر جاری بیان میں کہا ہے کہ نیپرا ریویو کا فیصلہ انتظامی اصلاحات سے متعلق ہے، نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کا ریویو فیصلہ کیا، بعض حلقے نیپرا کے فیصلے پر گمراہ کن تاثر پھیلا رہے ہیں، نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ کے الیکٹرک کو اپنی کارکردگی سرکاری اداروں سے بہتر بنانی چاہیے، آئیسکو، فیسکو اور گیپکو جیسے ادارے ریکوری اور سروس میں آگے ہیں۔ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 2 ہزار میگاواٹ بجلی لے رہی ہے جو کے الیکٹرک کے اپنے پلانٹس سے سستی ہے،کے الیکٹرک صارفین کیلئے بھی فی یونٹ نرخ قومی سطح پر یکساں ہیں، اخراجات میں کمی صارفین کیلئے مثبت اقدام ثابت ہوگی۔ترجمان نے مزید کہا کہ کراچی کے صارفین کو سبسڈی بدستور ملتی رہے گی تاہم سبسڈی کو کے الیکٹرک کے منافع کا حصہ بننے سے روکا گیا ہے، نیپرا ریویو سے غیر موصول واجبات بلوں میں شامل نہیں کیے جا سکیں گے اور صرف تصدیق شدہ واجبات ہی شامل ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے منافع کو جائز حد میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب کے الیکٹرک کا منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے سے منسلک ہوگا، منافع کی شرح 24 سے 30 فیصد کم کی گئی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ آزاد کنسلٹنٹ نے کے الیکٹرک کے نقصانات کا انکشاف کیا، نیپرا نے نقصانات کی شرح کم کرکے عوامی مفاد کا تحفظ کیا، بند پاور پلانٹس کے اخراجات صارفین سے نہیں لیے جائیں گے، نیپرا ریویو ریگولیٹری نظام کی مضبوطی کی سمت اہم قدم ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسکوز میں توازن پیدا کرے گا، فیصلہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ میں کمی کا باعث بنے گا، نیشنل گرڈ سے سستی بجلی ملنے سے فیول اخراجات کم ہوں گے جب کہ کراچی کو لوڈشیڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان کے مسلسل عدم پیشی پر پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری علیمہ خان کے مسلسل عدم پیشی پر پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری گورنر خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط ،گندم کی نقل و حرکت پر پابندی پر مداخلت کی درخواست پیرودھائی کے علاقے میں تاجروں کا پیرا فورس کیخلاف شدید احتجاج آئندہ انتخابات میں جوڈیشل افسران کو بطور ریٹرننگ افسران لگانے کی سفارش سعودی عرب کا پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرنے کا فیصلہ شرح سود کو ایک بار پھر برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، عاطف اکرام شیخ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: فیصلہ کراچی کے صارفین کے کے الیکٹرک کے پاور ڈویژن کا فیصلہ میں ہے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش