ترجمان پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ نیپرا نے اپنے حالیہ ریویو میں کے الیکٹرک کے ملٹی ایر ٹیرف کا فیصلہ جاری کیا ہے جس پر کچھ حلقے ایک مذموم اور عام عوام کو گمراہ کرنے کیلئے حقائق کو میرٹ کے بر عکس پیش کر رہے ہیں اور جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ فیصلہ کراچی کے بجلی صارفین کے خلاف ہے، حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کچھ حقائق کو عام فہم الفاظ میں کراچی اور پورے ملک کے عوام کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مذموم مہم کا تدارک ہو سکے۔

ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک جو کہ ایک پرائیویٹ ادارہ ہے کو اپنی کارکر دگی سرکاری اداروں سے بہتر بنانی چاہیے اور اس تناظر میں اگر سرکاری ادارے جیسے آئیسکو،فیسکویا گیپکو کے ساتھ کے الیکٹرک کا تقابلی جائزہ کیا جائے تو یہ تمام ادارے ریکوری، لائن لاسز اور عوام صارفین کی خدمات میں آگے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یہ نیپرا کا ریویو کے الیکٹرک کے انتظامی معاملات سے متعلق ہے کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے اس وقت 2000 میگاواٹ بجلی لے رہی ہے مستقبل میں اس سے زیادہ بجلی بھی لے سکتی ہے اور یہ بجلی کے الیکٹرک کے اپنے پلانٹس سے پیدا کردہ بجلی سے سستی بھی ہے۔

ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کے صارفین پر دوسرے علاقوں کے صارفین کے برابر فی یونٹ نرخ ہی لاگو ہوتا ہے اب اگر کے الیکٹرک کے اپنے اخراجات میں کوئی کمی ہوتی ہے تو کیا صارفین کے فی یونٹ میں اضافے کا باعث بنیں گے یا انکے فی یونٹ نرخ کو قومی سطح کے برابر رکھنے میں مدد کریں گے؟کیا یہ صارفین کیلئے ایک مثبت اقدام نہیں ہے؟

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق ملک کے باقی بجلی صارفین کی طرح کے الیکٹرک کے صارفین کواب بھی سبسڈی ملتی رہے گی کیونکہ انکے لئے بھی یکساں بجلی کے نرخ مقرر ہیں تاہم اس سبسڈی کوکے الیکٹرک کی نااہلی اور نقصانات میں کمی نہ کرنے کی بدولت انکے منافع کا حصہ بننے سے روکا گیا ہے جو کہ ایک قومی فریضہ ہے۔

اس ریویو سے پہلے کے الیکٹرک اپنے غیر موصول شدہ واجبات کو کلین کر کے ٹیکس دہندگان پر میں اضافے کی صورت میں تبدیل کر دیتی ہے تاہم اب ایسا نہیں ہو گا اب صرف اور صرف وہ واجبات جس کو کے الیکٹرک کو ثابت کرنا ہوگا کہ واقعی کو ششوں کے باوجود وصول نہیں ہو سکے تو ہی نیپرا اجازت دے گا اور یہ کراچی کے بجلی صارفین کو اپنی مرضی سے اور ثبوت کے بغیر ان کے فی یونٹ میں اضافے کی صورت میں شامل نہیں کرپائیں گے۔ کیا یہ صارفین کیلئے ایک مثبت اقدام نہیں ہے؟

ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کے منافع کو ایک جائز حد میں رکھنے کے حوالے سے بھی یہ نیپرا کار یویو بہت اہم ہے۔ اس ریویوسے پہلے کے الیکٹرک کو٪24سے٪ 30 تک اپنے سرمایے پر منافع مل رہا تھا جو جو کہ ڈالر سے منسلک تھا۔

اس ریویو سے ایک تو ڈالر سے منسلک کرنا ختم کیا گیا ہے کیونکہ کے الیکٹرک کے تمام اثاثے پاکستانی روپوں اور پاکستان کے اسٹاک مارکیٹ سے مسلک ہیں دوسرا یہ بھی کیا گیا ہے کہ ملک کے دوسرے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی از سر نو تجدید کی صورت میں کے الیکٹرک کی اپنے پلانٹس پر منافع کی شرح کو بھی کم کیا جا سکتا ہے ۔

کے الیکٹرک کے اپنے بورڈ سے مقرر کردہ آزاد کنسلٹنٹ نے اپنی سسٹڈی کی رپورٹ میں الیکٹرک کو 6.

5 فیصد تک کے نقصانات کو بلوں میں شامل کرنے دیا ہے اس آزاد کنسلٹنٹ نے کے الیکٹرک کی انتظامیہ پر نقصانات میں کمی نہ کرنے اور بھاری رقم خرچ کرنے کا بھی انکشاف کیا ہے یہ وہ حقائق ہیں جو کہ کے الیکٹرک کے اپنے مقرر کر وہ آزاد کنسلٹنٹ نے آشکار کیے ہیں۔

اب ان انکشافات کی صورت میں کیا نیپرا نے ان کے نقصانات کی شرح کو کم کر کے عوام کیلیے بہتر کام کیا یا نہیں فیصلہ آپ پرہے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق کے الیکٹرک نے نیشنل گرڈسے بجلی کی درآمد میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے انکے ماہانہ فیول کے اخراجات کم ہونے چاہیئں اس طرح نیپرا نے کے الیکٹرک کے وہ پاور پلانٹس جو کہ بند پڑے ہوئے ہیں کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ان پر موجود چارجزکو فی یونٹ کا حصہ نہ بنا یا جا سکے۔

یاد رہے حکومت نے ابتدا اپنے سرکاری اور پلانٹس سے کی اور جس کی وجہ سے صارفین کے فی یونٹ میں کمی بھی ہوئی اور ساتھ ساتھ غیر ضروری اخراجات سے بھی چھٹکارا مل گیا۔

اب اگرکوئی پلانٹ بند ہے تو اس کو سسٹم سے نکالنے اور اس کے اخراجات عوام سے وصول نہ کرنے کی اگر نیپرا کہتا ہے توکیا یہ کراچی کے عوام کے لیے بہتر فیصلہ نہیں ہے؟

ترجمان نے مزید کہا کہ نیپرا کا یہ ریویو نہ صرف ملک کی ریگولیٹری سسٹم کا ایک سنگ میل ہے بلکہ اس کے دور رس مثبت نتائج بھی آئیں گے کیونکہ مستقبل میں بھی کی کوئی بھی ادارہ عوام سے غیر ثابت شدہ اور نامناسب منافع نہیں لے پائے گا اور ملک کے ریگو لیٹر عوام کے مفادات کا تحفظ اور مروجہ قانون کی پاسداری یقینی بنائیں گے۔

نیپرا کے اس فیصلے سے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ میں کمی ہو گی جبکہ نقصانات میں کمی ہونے کی حوصلہ افزا ئی ہو گی۔

اس سے پہلے کے الیکٹرک کو اپنی نااہلی کی وجہ سے نقصانات کی مد میں اربوں روپے کی سبسڈی ملتی تھی جو کہ قومی بجٹ سے پوری کی جاتی تھی اس نظر ثانی فیصلے سے سالانہ بجٹ پر غیرضروری بوجھ بھی کم ہو گا۔

اس فیصلے سے کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسکوز میں غیر منصفانہ تفریق بھی ختم ہوگی۔ کے الیکٹرک کو انتظامی اصلاحات اور بہتر کار کردی دکھانی ہوگی تاکہ نااہلیوں پر قابو پایا جا سکے اور نقصانات والے پاور پلانٹس کو بند کرنے سے کراچی کو لوڈ شیڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ نیشنل گرڈ میں سستی اور وافر مقدار میں بجلی بھی موجود ہے اور اس کو کراچی کے صارفین تک پہنچانے کا سسٹم بھی موجود ہے

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے الیکٹرک کے الیکٹرک کے اپنے ترجمان پاور ڈویژن ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کو کی صورت میں کے فی یونٹ صارفین کے صارفین کی کے صارفین کراچی کے نہیں ہے ملک کے کیا ہے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش