یورپ میں سوشل میڈیا پر شکنجہ سخت: فیس بک اور انسٹاگرام پر قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برسلز: یورپی یونین نے دنیا کی مشہور سوشل میڈیا کمپنی میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک) کے خلاف ایک بار پھر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے صارفین کے لیے غیر قانونی یا نقصان دہ مواد کی رپورٹنگ کے عمل کو جان بوجھ کر پیچیدہ اور مشکل بنایا ہے۔
یورپی کمیشن کے مطابق یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی نتائج میں یورپین کمیشن نے کہا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر صارفین کے لیے ایسا نظام موجود نہیں جو انہیں آسانی سے کسی غیر قانونی یا نقصان دہ پوسٹ، ویڈیو یا اشتہار کے خلاف شکایت درج کرانے میں مدد دے۔
رپورٹ کے مطابق شکایت جمع کرانے کے مراحل نہ صرف طویل ہیں بلکہ کئی مقامات پر گمراہ کن ڈیزائن استعمال کیے گئے ہیں جو صارف کو بھٹکا دیتے ہیں یا مایوس کر دیتے ہیں۔
کمیشن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں پلیٹ فارمز صارفین کو مؤثر نوٹس اینڈ ایکشن (Notice & Action) کا نظام فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل قوانین کے تحت ہر آن لائن کمپنی کے لیے لازمی ہے۔
یورپی حکام کے مطابق اگر ان الزامات کی تصدیق ہو گئی تو میٹا پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو اس کے عالمی آپریشنز کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب میٹا نے یورپی کمیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پلیٹ فارمز قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی کر رہے ہیں اور رپورٹنگ سسٹم کو مزید بہتر بنانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یورپی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے تاکہ سوشل میڈیا کو محفوظ اور شفاف بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے رواں سال سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے سخت ضوابط متعارف کروائے تھے، جن کے تحت نفرت انگیز مواد، جعلی خبروں اور صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔