Islam Times:
2026-06-03@06:39:32 GMT

غزہ میں 6 لاکھ 50 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہیں، یونیسف

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

غزہ میں 6 لاکھ 50 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہیں، یونیسف

ادارے نے واضح کیا ہے کہ الفاظ اور اعداد و شمار اس تباہی کی گہرائی کو بیان نہیں کر سکتے جو غزہ کے بچے بھگت رہے ہیں، اس انسانی سانحے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نفسیاتی اور سماجی بحران کئی نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے اطفال (یونیسف) کے علاقائی ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ غزہ پٹی کے بچے انتہائی سخت اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، اور گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ یونیسف کے علاقائی سربراہ نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتحال تاریخ کے بدترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور علاقے کی 80 فیصد سے زیادہ بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بچے نہ صرف مسلسل خوف اور ناامنی میں زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ تعلیم، صحت اور خوراک کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ایک ملین بچوں کی المناک حالت ہے۔ یونیسف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اب تک 64 ہزار سے زائد بچے غزہ میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ 58 ہزار بچوں نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو جنگ کے دوران کھو دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اس ادارے نے واضح کیا ہے کہ الفاظ اور اعداد و شمار اس تباہی کی گہرائی کو بیان نہیں کر سکتے جو غزہ کے بچے بھگت رہے ہیں، اس انسانی سانحے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نفسیاتی اور سماجی بحران کئی نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں تمام اسکول، اسپتال اور سماجی خدمات کے مراکز تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں — اور علاقہ اپنی تاریخ کے بدترین تعلیمی و انسانی بحران سے دوچار ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ