غزہ میں 6 لاکھ 50 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہیں، یونیسف
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ادارے نے واضح کیا ہے کہ الفاظ اور اعداد و شمار اس تباہی کی گہرائی کو بیان نہیں کر سکتے جو غزہ کے بچے بھگت رہے ہیں، اس انسانی سانحے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نفسیاتی اور سماجی بحران کئی نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے اطفال (یونیسف) کے علاقائی ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ غزہ پٹی کے بچے انتہائی سخت اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، اور گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بچے تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔ یونیسف کے علاقائی سربراہ نے کہا کہ غزہ میں انسانی صورتحال تاریخ کے بدترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور علاقے کی 80 فیصد سے زیادہ بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بچے نہ صرف مسلسل خوف اور ناامنی میں زندگی بسر کر رہے ہیں بلکہ تعلیم، صحت اور خوراک کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ایک ملین بچوں کی المناک حالت ہے۔ یونیسف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اب تک 64 ہزار سے زائد بچے غزہ میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ 58 ہزار بچوں نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو جنگ کے دوران کھو دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اس ادارے نے واضح کیا ہے کہ الفاظ اور اعداد و شمار اس تباہی کی گہرائی کو بیان نہیں کر سکتے جو غزہ کے بچے بھگت رہے ہیں، اس انسانی سانحے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نفسیاتی اور سماجی بحران کئی نسلوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں تمام اسکول، اسپتال اور سماجی خدمات کے مراکز تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں — اور علاقہ اپنی تاریخ کے بدترین تعلیمی و انسانی بحران سے دوچار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔