خیبر پختونخوا میں غیر قانونی گولڈ مائننگ پر پابندی میں مزید 30 روز کیلئے توسیع
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں غیر قانونی گولڈ مائننگ پر پابندی میں مزید 30 روز کیلئے توسیع کر دی گئی۔محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کے مطابق غیر قانونی گولڈ مائننگ پر دفعہ 144 کے تحت مزید 30 روز کیلئے پابندی برقرار رہے گی۔ پابندی کا اطلاق بالخصوص صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور ملحقہ علاقوں میں ہو گا۔محکمہ داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی کان کنی سے دریا کے کناروں کو نقصان پہنچ رہا ہے، کان کنی سے پانی کی آلودگی، عوامی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ محکمہ داخلہ نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں سے امن و امان کے مسائل اور مقامی تنازعات ہوتے ہیں ، غیر قانونی مائننگ کرنے پر انتظامیہ اور پولیس کو مشینری، گاڑیوں اور آلات کی ضبطگی کا اختیار دیا گیا ۔تقریباً دو ماہ قبل منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا تھا کہ دریاے سندھ میں غیر قانونی گولڈ ماننگ سے متعلق شکایات پر 1298 ایف آئی آرز درج کرکے 8.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: غیر قانونی گولڈ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔