ایک حوالدار 3 ججوں کے احکامات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہ نظام کی کمزوری ہے کہ ایک حوالدار 3 ججوں کے آرڈرز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی اجازت کے باوجود ایک حوالدار نے انہیں روکا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ہر کسی کی اپنی اپنی ہوتی ہے، مگر انصاف اور آئین کی بالادستی سب کا مشترکہ فرض ہے۔
انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کو عدالتوں کو مفلوج کرنے کی وجہ قرار دیا اور کہا کہ اس نے عدالتی نظام پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ جمہوری نظام کے تحت منتخب ہو کر وزیراعلیٰ بنے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محکمہ داخلہ پنجاب اور وفاقی حکومت کو خطوط لکھے ہیں اور وزیراعظم نے انہیں کال بھی کی، تاہم ذاتی ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے خیبرپختونخوا میں کابینہ کی تشکیل، عمران خان نے سہیل آفریدی کو اہم پیغام پہنچا دیا
اپنی گفتگو میں سہیل آفریدی نے ایک واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی اجازت کے باوجود ایک حوالدار نے انہیں روکا، اور اسے اپنے نظام کی کمزوری قرار دیا۔ ان کے بقول، ’ایک حوالدار 3 ججوں کے آرڈرز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے‘۔ اس قسم کے عمل کو انہوں نے سنگین قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ظلم کو ظلم کہنے والے ججز اور صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’ہم نے بندوق کا مقابلہ آئین کے مطابق کرنا ہے‘ اور امن و قانون کے قیام کے لیے آئینی راستوں پر قائم رہنے پر زور دیا۔
وکلاء برادری کے کردار کو ضروری قرار دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وکلاء برادری مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اور بندوق کے ذریعے قانون کو روندنے والوں کا راستہ روکنے میں وکلا کی ذمہ داری اہم ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اسمبلی میں تجاویز لائیں گے اور ان کو پاس کروائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے کور کمانڈر پشاور سے کیا گفتگو ہوئی؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے تفصیل بتادی
وزیراعلیٰ نے ملک میں یکساں نظامِ تعلیم نافذ کرنے کا عزم دہرایا اور کہا کہ ’یکساں نظام تعلیم پہلی جماعت سے بارہویں تک لائیں گے” تاکہ تعلیمی نظام میں یکسانیت اور معیار یقینی بنایا جا سکے۔
ایک اور گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمج دہشتگردی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے، اور اس سلسلے میں انہوں نے اسپیکر سے بات کی ہے تاکہ ایسے قوانین لائے جائیں جن سے اس کی روک تھام ممکن ہو۔
خطاب کے دوران سہیل آفریدی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی سہیل آفریدی نے سہیل ا فریدی ایک حوالدار نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب