روس‘ پیوٹن کی صحت سے متعلق ملک بھر میں چہ مگوئیاں
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روسی صدر کی صحت سے متعلق ملک بھر اور سوشل میڈیا پر بڑی زور و شور سے چہ مگوئیاں جاری ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ایک وڈیو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے۔ جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ہاتھ پر غیر معمولی سوجن اور رگیں پھولی ہوئی ہیں۔ مذکورہ مناظر نے ایک بار پھر پیوٹن کی صحت سے متعلق ملک بھر میںنئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ اس سے قبل ماضی میں بھی مختلف مواقع پر پیوٹن کے چلنے، بیٹھنے یا ہاتھوں کی حرکت سے متعلق غیر معمولی وڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ مذکورہ حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے ہاتھوںکی ایسی صورتحال جسم میں خون کی روانی، اعصاب یا دیگر اندرونی بیماریوں کا اشارہ ظاہر کرتا ہے تاہم اس سلسلے میں روسی حکام کی جانب سے پیوٹن کی صحت سے متعلق کوئی وضاحت منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ وڈیو ایسے وقت پر منظر عام پر آئی جب روس کی سیاسی فضا میں پہلے ہی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی صحت سے متعلق پیوٹن کی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں