بھارتی ایئرلائن کا بحران شدت اختیار کر گیا، 500 سے زائد پروازیں معطل
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: بھارت کی سب سے بڑی نجی ایئرلائن انڈیگو کے فضائی آپریشن میں غیر معمولی خلل جاری ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران 500 سے زائد پروازوں کی اچانک منسوخی نے پورے فضائی نظام کو مفلوج کر دیا ہے، دہلی اور چنئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس شدید ترین دباؤ کا شکار رہے جہاں راتوں رات پروازیں روک دیے جانے سے ہزاروں مسافر رل گئے اور ایئرپورٹس پر شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی سے فلائٹس بغیر کوئی وجہ بتائے آدھی رات کو منسوخ کی گئیں، جس سے نہ صرف فضائی آپریشن متاثر ہوا بلکہ مسافروں کا احتجاج بھی شدت اختیار کر گیا، مسافروں نے شکایت کی کہ ایئرپورٹ پر کوئی واضح رہنمائی موجود نہیں تھی اور انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کھڑی نظر آئی۔
یہ مسئلہ مسلسل تیسرے روز اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک اور پرواز میں بم کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس کے بعد پہلے سے متاثر شیڈول مزید بگڑ گیا، اگرچہ بعد میں کسی بھی اطلاع کو جھوٹا ثابت کیا گیا، گھبراہٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مزید پروازیں معطل ہوئیں۔
انڈیگو نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ بحران جلد ختم نہیں ہوگا اور پروازوں کی مکمل بحالی 10 فروری 2026 سے پہلے ممکن نہیں۔ ایئرلائن نے وضاحت کی کہ موجودہ بدانتظامی بنیادی طور پر فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لیول-2 (FDTL-II) کے نفاذ کے دوران ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ یہ قوانین پائلٹس اور عملے کے آرام، ڈیوٹی اوقات اور زیادہ سے زیادہ پرواز کے اوقات کار سے متعلق ہیں، جن پر مناسب تیاری نہ ہونے کے باعث عملدرآمد میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
ایئرلائن کے مطابق پائلٹس کی کمی، عملے کی عدم دستیابی، شیڈولنگ کا بکھراؤ اور مجموعی طور پر انتظامی کمزوریوں نے بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ انڈیگو نے حکومت سے FDTL قوانین میں عارضی نرمی دینے کی درخواست بھی کر دی ہے تاکہ نظام کو دوبارہ متوازن کیا جا سکے۔
مسافروں کی شکایات میں اضافے کے بعد انڈیگو نے معذرت کرتے ہوئے 5 سے 15 دسمبر تک بک ہونے والے ٹکٹس کے لیے مکمل فیس معافی، منسوخی اور ری شیڈولنگ کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے ایئرپورٹ پر پھنسے افراد کے لیے ہوٹل، ٹرانسپورٹ، کھانے اور خصوصی افراد کے لیے لاؤنج سہولت بھی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی پروازیں بھی متاثر ہوئیں، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک جانے والے مسافروں کو طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم بڑی فلائٹس مکمل طور پر منسوخ نہیں کی گئیں، دبئی، ابوظبی، دوحہ اور شارجہ جانے والی پروازیں غیر معمولی تاخیر سے چلائی گئیں جس سے ہزاروں افراد کی سفری منصوبہ بندی متاثر ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔