وفاق کی مشکلات کم کرنے کیلیے صوبے مزید ذمہ داریاں اٹھانے کو تیار ہیں، بلاول
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ وفاق کی معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے صوبے مزید ذمہ داریاں اٹھانے کو تیار ہیں اور سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز کے ساتھ دیگر ٹیکسز بھی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کراچی میں قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے نئے او پی ڈی بلاک کا افتتاح کرتے ہوئے بلاول نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبوں کو مالی وسائل منتقل کرنا غلطی نہیں تھی، بلکہ این آئی سی وی ڈی کی کامیاب کارکردگی اس فیصلے کی بہترین مثال ہے، بعض وزرا صوبوں سے اختیارات واپس لینے کی بات کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دینے سے وفاقی حکومت کا بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے اور اب وفاق کے لیے دیگر ٹیکسز جمع کرنے کی پیشکش بھی کر رہے ہیں، اگر صوبوں کو مزید اختیارات دیے جائیں تو وہ زیادہ توانائی کے ساتھ ٹیکس وصولی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی چیئرمین نے سابق وزیراعظم کی این ایف سی سے متعلق پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبے ملک کی معاشی ترقی میں برابر کا حصہ رکھتے ہیں، اس لیے انہیں مالی خود مختاری دینا وقت کی ضرورت ہے۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، صوبائی وزرا شرجیل میمن، مکیش چاولہ، ماہرین امراضِ قلب اور دیگر شخصیات بھی شریک ہوئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔