دوران زچگی انتقال کرنے والی ٹک ٹاکر پیاری مریم کے آخری وی لاگ نے نئی بحث چھیڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
معروف ٹک ٹاکر پیاری مریم دورانِ زچگی انتقال کر گئیں، ان کی وفات نے سوشل میڈیا پر گہرے افسوس اور صدمے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے آخری وی لاگ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔
پیاری مریم کے آخری وی لاگ کے مختلف کلپس سوشل میٖڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان ویڈیوز میں وہ اپنے حمل کے روزمرہ معمولات، بچوں کے لیے کی جانے والی خریداری اور اپنے گھر والوں کی خوشی کے بارے میں بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
ٹک ٹاکر پیاری مریم نے ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ وہ ہر تفصیل اپنے مداحوں سے اس لیے شیئر کرتی ہیں تاکہ لوگ ان کی اور ان کے آنے والے بچوں کی خوشحالی کے لیے دعا کریں۔
مریم اور ان کے شوہر نے کئی مواقع پر والدین بننے کی خوشی کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ زچگی کا مرحلہ بخیر و خوبی گزر جائے گا۔ تاہم ان کی اچانک موت نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو شدید غمزدہ کردیا۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ مسلسل نمائش اور ہر چیز کو عوام کے ساتھ شیئر کرنے کی وجہ سے وہ نظر بد کا شکار ہوئیں۔ بہت سے افراد نے لکھا کہ جو لوگ شہرت میں ہوتے ہیں وہ ہمیشہ مثبت نظر کا سامنا نہیں کرتے اور ان کے خیال میں یہی ان کی وفات کی وجہ بنی۔ تقریباً تمام صارفین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مریم کی موت نظر بد کی وجہ سے ہوئی، اگرچہ اس بارے میں کوئی تصدیق موجود نہیں۔
ایک مداح نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کون جانتا تھا کہ وہ پھر کبھی یہ خوشیاں نہیں دیکھ پائے گی۔ اس نے مریم کی مغفرت اور خاندان کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔ ایک اور صارف نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
پیاری مریم کی وفات نے انٹرنیٹ پر سوگ کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور لوگ ان کی یاد میں نہ صرف تعزیتی پیغامات لکھ رہے ہیں بلکہ ان کے آخری لمحات اور وی لاگز کے بارے میں بھی گفتگو کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیاری مریم سوشل میڈیا کے آخری
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔