وزیراعلیٰ سندھ سے براہ راست رابطہ، سیکریٹری پبلک اکاؤنٹس کمیٹی برطرف
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے محمد خان رند کو جاری کردہ شو کاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ وہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے ملازم ہیں اور اسپیکر اور سیکریٹری سندھ اسمبلی کے ماتحت ہیں، اس بنا پر وہ انہیں بائی پاس کرکے کسی سے براہ راست خط و کتابت نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کو بائی پاس کرکے وزیراعلیٰ سندھ سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اسٹاف کیلئے خصوصی اعزازیہ منظور کرانے پر پی اے سی کے سیکریٹری محمد خان رند کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسمبلی سیکریٹریٹ نے ان کی جگہ ایک اور سینئر افسر حسن شاہ کو سیکریٹری پی اے سی کے عہدے پر مقرر کیا، لیکن چیئرمین پی اے سی نثار احمد کھوڑو نے نئے سیکریٹری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے آخری اجلاس کے دوران سیکریٹری کی نشست خالی رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نثار کھوڑو کی سفارش پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 30 ملازمین کیلئے خصوصی اعزازیہ منظور کیا، ان میں تین ملازمین کیلئے 10 بنیادی تنخواہیں اور بقیہ کیلئے 5 بنیادی تنخواہیں دینے کی منظوری دی گئی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق سیکریٹری محمد خان رند پہلی کیٹیگری والے تین ملازمین میں شامل تھے۔
چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو کے مطابق موجودہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے مختصر مدت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتِ سندھ کو 26 ارب روپے کی رقم وصول کرکے دی ہے، جس میں سیکریٹری کمیٹی کا اہم کردار رہا ہے۔ چئیرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار احمد کھوڑو نے سابق سیکریٹری کو ہٹانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کو خط لکھ کر انہیں واپس اپنے عہدے پر بحال کرنے کی درخواست کی، تاہم آخری اطلاعات تک اسپیکر نے نثار کھوڑو کے خط کا جواب نہیں دیا۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے محمد خان رند کو جاری کردہ شو کاز نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ وہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے ملازم ہیں اور اسپیکر اور سیکریٹری سندھ اسمبلی کے ماتحت ہیں، اس بنا پر وہ انہیں بائی پاس کرکے کسی سے براہ راست خط و کتابت نہیں کر سکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اسمبلی سیکریٹریٹ سندھ اسمبلی پی اے سی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔