فضائی آلودگی کے مسئلے پر سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کے مسئلے پر سائنسی بنیادوں پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور میں شمال مغربی ہواؤں کے باعث آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، اسموگ کنٹرول مشینری، واٹر باؤزرز اور انسپیکشن ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت خطے میں سب سے جامع اینٹی اسموگ پلان پر عملدرآمد کر رہی ہے، شہریوں کو بروقت آگاہی اور مسلسل مانیٹرنگ فراہم کرنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فضائی معیار کی بہتری کے لیے تمام محکمے24/7 فیلڈ میں متحرک ہیں، صنعتی شہروں سے آنے والی آلودگی کا سائنٹیفک میپنگ کے ذریعے مکمل ریکارڈ رکھا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات سے بہت جلد واضح بہتری آئے گی، فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے ڈرون سرویلنس اور گراؤنڈ ٹیموں کی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ فضائی معیار کے لیے رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ، وارننگ سسٹم اور فوری رسپانس یونٹس مضبوط کیے گئے ہیں، سیاسی بیانیے نہیں بلکہ صرف عوام کی صحت ترجیح ہے۔
مریم اورنگزیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ حساس افراد غیرضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں، شہری پانی کا زیادہ استعمال کریں اور سانس میں تکلیف پر فوری قریبی اسپتال سے رجوع کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔