خورشید شاہ نے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی، مصدق ملک کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر مصدق ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو فون کے ذریعے کہا تھا کہ وہ انہیں ووٹ دے دیں تاکہ پی ٹی آئی حکومت بنا سکے، خورشید شاہ نے واضح طور پر پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ وہ اپنے زیر نگرانی فارم 45 اور 47 کھول کر نتائج دیکھ لیں، پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ پیشکش صرف خورشید شاہ کے ذریعے نہیں بلکہ ندیم افضل چن کے ذریعے بھی دی گئی، جس میں کہا گیا کہ پیپلز پارٹی بلامشروط طور پر پی ٹی آئی کی حمایت کرے گی تاکہ حکومت بن سکے ، پی ٹی آئی نے اس پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا۔
مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت چلانے کی خواہش نہیں رکھتی تو اس کا مقصد کیا ہے، بعض لوگ عوام کو بے اختیار سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں سیاسی جماعتیں حکومت چلانے میں غیرسنجیدہ رویہ اختیار کر رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت بنانے اور چلانے سے انکار، ملکی سیاسی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے اور اس سے عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کی پیشکش واضح اور بلامشروط تھی، لیکن پی ٹی آئی نے اسے رد کر کے اپنی سیاسی حکمت عملی میں شفافیت نہیں دکھائی، جس سے سیاسی تجزیہ کاروں اور عوام میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پیپلز پارٹی خورشید شاہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔