پیراماؤنٹ کی وارنر بروس کو بڑی پیشکش، نیٹ فلکس کا سودا خطرے میں
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ہالی ووڈ میں ایک نئی بڑی جنگ چھڑ گئی ہے کیونکہ پیراماؤنٹ نے وارنر برادرز ڈسکوری کو خریدنے کے لیے 30 ڈالر فی شیئر کی مکمل نقدی پر مبنی ٹینڈر آفر پیش کردی ہے۔
یہ پیشکش وارنر برادرز اور نیٹ فلکس کے درمیان طے پانے والے 28 ڈالر فی شیئر کے معاہدے کو چیلنج کرتی ہے جس نے گزشتہ ہفتے پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو حیران کردیا تھا۔
پیراماؤنٹ کی یہ جارحانہ پیشکش نیٹ فلکس کے مقابلے میں ایک بڑی مقابلہ آرائی کو جنم دے رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پیراماؤنٹ کے مالک لیری ایلیسن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں، جبکہ نیٹ فلکس دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ کمپنی بن چکی ہے۔
نیٹ فلکس کی جانب سے وارنر برادرز کو خریدنے کے معاہدے پر ہالی ووڈ کے کئی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور اسے صنعت کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وارنر برادرز کی خریداری سے نیٹ فلکس فلم اور ٹی وی مارکیٹ میں حد سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لے گا، جو ’مسئلہ‘ بن سکتا ہے۔
پیراماؤنٹ کے چیئرمین اور سی ای او ڈیوڈ ایلیسن نے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کمپنی وہیں سے آگے بڑھنا چاہتی ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا، اور یہ وارنر برادرز کے لیے ان کی چھٹی باضابطہ پیشکش ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل وارنر برادرز نیٹ فلکس
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔