ہالی ووڈ میں ایک نئی بڑی جنگ چھڑ گئی ہے کیونکہ پیراماؤنٹ نے وارنر برادرز ڈسکوری کو خریدنے کے لیے 30 ڈالر فی شیئر کی مکمل نقدی پر مبنی ٹینڈر آفر پیش کردی ہے۔

یہ پیشکش وارنر برادرز اور نیٹ فلکس کے درمیان طے پانے والے 28 ڈالر فی شیئر کے معاہدے کو چیلنج کرتی ہے جس نے گزشتہ ہفتے پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو حیران کردیا تھا۔

پیراماؤنٹ کی یہ جارحانہ پیشکش نیٹ فلکس کے مقابلے میں ایک بڑی مقابلہ آرائی کو جنم دے رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پیراماؤنٹ کے مالک لیری ایلیسن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں، جبکہ نیٹ فلکس دنیا کی سب سے بڑی اسٹریمنگ کمپنی بن چکی ہے۔

نیٹ فلکس کی جانب سے وارنر برادرز کو خریدنے کے معاہدے پر ہالی ووڈ کے کئی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور اسے صنعت کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وارنر برادرز کی خریداری سے نیٹ فلکس فلم اور ٹی وی مارکیٹ میں حد سے زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لے گا، جو ’مسئلہ‘ بن سکتا ہے۔

پیراماؤنٹ کے چیئرمین اور سی ای او ڈیوڈ ایلیسن نے سی این بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کمپنی وہیں سے آگے بڑھنا چاہتی ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا، اور یہ وارنر برادرز کے لیے ان کی چھٹی باضابطہ پیشکش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وارنر برادرز نیٹ فلکس

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین