وقار یونس کو نسیم شاہ سے بدستور امیدیں وابستہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
دبئی(نیوز ڈیسک)وقار یونس کو نسیم شاہ سے بدستور امیدیں وابستہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آئی ایل ٹی 20 پیسر کیلیے اچھا موقع ہے، سلیکٹرز ضروران پر نظر رکھے ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ منعقدہ ٹرائنگولر سیریز میں نسیم شاہ کو پاکستان کی جانب سے صرف ایک میچ ہی کھیلنے کا موقع ملا تھا،وہ ان دنوں یو اے ای میں جاری آئی ایل ٹی20 میں ڈیزارٹ وائپرز کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
دبئی میں بات چیت کے دوران سابق پیسر وقار یونس نے کہا کہ نسیم شاہ بدستور اچھے بولر ہیں، بعض اوقات کوئی کھلاڑی فارم کھو بیٹھتا ہے ، اگر اچھی بولنگ نہ کرے تو اسے ٹیم سے ڈراپ ہونا پڑتا ہے،البتہ آئی ایل ٹی 20 نسیم شاہ کیلیے اچھا موقع ہے۔ پلیئرز کسی بھی لیگ میں پرفارم کریں سلیکٹرز ان پر نظر ضرور رکھتے ہیں،اس سے واپسی کا موقع بھی مل سکتا ہے۔
وسیم اکرم کی414 وکٹوں کا ریکارڈ توڑنے والے مچل اسٹارک کے بارے میں وقار یونس نے کہا کہ وہ 35 سال کے ہو چکے مگر اب بھی بہترین پرفارم کر رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اسٹارک مزید 2،3 سیزنز کھیل سکتے ہیں۔
جب وہ کرکٹ سے الگ ہوئے تو لیفٹ آرم پیسرز میں سب سے آگے ہی ہوں گے، وسیم اکرم بھی خطرناک بولر تھے،البتہ دونوں کا کوئی موازنہ ممکن نہیں، ان کی اپنی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔
وقار یونس نے آئی ایل ٹی 20 کو بہترین لیگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ افتتاحی تقریب سے ہی اس کی مقبولیت واضح ہو گئی تھی، اتنے سارے لوگ ایونٹ شروع ہونے کے منتظر تھے،لیگز کو مستحکم ہونے میں وقت لگتا ہے لیکن آئی ایل ٹی ٹوئنٹی نے 4 برس کے دوران ہی خاصی ترقی کر لی۔
سعودی عرب اور کویت بھی اس کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں،مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید کئی ممالک آئی ایل کے ساتھ منسلک ہونا چاہیں گے، اس سے خطے میں کھیل کو مزید فروغ ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایل ٹی وقار یونس نسیم شاہ
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔