ویلکم ٹو دی پنجاب' نے باکو فلم فیسٹیول میں بہترین آڈینس ایوارڈ اپنے نام کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستانی فلموں کی عالمی سطح پر چوتھی بڑی کامیابی، "ویلکم ٹو دی پنجاب" نے باکو فلم فیسٹیول میں بہترین آڈینس ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔پاکستان کی فلم انڈسٹری نے عالمی سطح پر ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے چوتھی بڑی کامیابی اپنے نام کر لی، آذربائیجان میں 7 سے 10 دسمبر 2025 تک منعقد ہونے والے باکو سنیما بریز فلم فیسٹیول میں پاکستان نے بھرپور شرکت کی، فیسٹیول کے دوران تین پاکستانی فلموں کی خصوصی نمائش کی گئیں۔اس فلم کے پروڈیوسر صفدر ملک جبکہ ہدایت کار شہزاد رفیق ہیں، پاکستانی وفد کے مطابق یہ ایوارڈ عالمی سطح پر پاکستانی سینما کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ثبوت ہے، اس سے قبل بھی پاکستانی فلموں نے 2025 میں متعدد عالمی پلیٹ فارمز پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔چین میں منعقد ہونے والے ایس سی او فلم فیسٹیول میں فلم نایاب نے بہترین جیوری کرٹک ایوارڈ جبکہ فلم دیمک نے بہترین ایڈیٹنگ ایوارڈ اپنے نام کیے جبکہ روس میں ہونے والے یوریشیا فلم فیسٹیول میں پاکستان کی معروف اداکارہ سونیا حسین کو بہترین پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا اور فلم پالیسی ادارہ عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی نمائندگی کو مؤثر بنانے، ثقافتی سفارت کاری کو فروغ دینے اور انٹرنیشنل کو پروڈکشن کے نئے دروازے کھولنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے ایگزیکٹیو ڈی جی ڈی ای ایم پی ثمینہ فرزین، ڈائریکٹر فلم سیکشن سیدہ سائرہ رضا اور ڈپٹی ڈائریکٹر سمیعہ چنا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہی کی محنت کی بدولت پاکستان نے عالمی سطح پر مسلسل چوتھی کامیابی حاصل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فلم فیسٹیول میں عالمی سطح پر اپنے نام
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔