پی آئی اے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والوں کا احتساب ہونا چاہیے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا یورپ کے لیے فلائٹ آپریشن قریباً ساڑھے چار سال بعد بحال ہوگیا، اور آج پی آئی اے کی پرواز پیرس کے لیے روانہ ہوگئی۔
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے آج اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی پیرس اور یورپی یونین کے لیے دوبارہ شروع ہونے والی پروازوں کا افتتاح کیا۔
یہ بھی پڑھیں حکومت نے قومی ایئرلائن کا تشخص بحال کردیا، وزیر اعظم شہباز شریف
اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہونے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 749 میں 323 مسافر سوار ہیں۔
وزیر برائے ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے یورپ کے لیے فلائٹ آپریشن بحال ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں پی آئی اے کے منافع بخش روٹس بند ہوگئے تھے، اب ہم چاہیں گے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی جائے۔
وزیر ہوا بازی نے کہاکہ پی آئی اے ہماری شناخت ہے جس سے ہمیں محروم کردیا گیا تھا، پیرس جانے والی پی آئی اے کی پرواز کی بکنگ 100 فیصد ہوئی ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ قومی ایئر لائن پاکستانیوں کی میتیں مفت لے کر آتی تھی، لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے کے باعث اوورسیز پاکستانیوں کو یہ سہولت میسر نہیں تھی۔
انہوں نے کہاکہ یورپ کے لیے پی آئی اے کی پروازیں بحال ہونا خوش آئند ہے، اب یورپ کی فضاؤں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا۔
انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے پی آئی اے کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے تھے، ان کا احتساب ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں پی آئی اے کی نجکاری: وزیراعظم شہباز شریف نے حتمی شیڈول طلب کرلیا
واضح رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور نے اسمبلی فلور پر ایک متنازع بیان دیا تھا جس کے بعد پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازوں پر پابندی عائد ہوگئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پرواز پیرس روانہ پی آئی اے فلائٹ آپریشن بحال قومی ایئرلائن وی نیوز یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پرواز پیرس روانہ پی ا ئی اے فلائٹ ا پریشن بحال قومی ایئرلائن وی نیوز یورپ پی ا ئی اے کی پرواز فلائٹ ا پریشن یورپ کے لیے نے کہاکہ ہوا بازی
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔
69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان
سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔
Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz
— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔
اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔
’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ