حیدرآباد کے گرین بیلٹ کھنڈرات کا منظر پیش کررہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے پارکس،گرائونڈ اور گرین بیلٹ کھنڈرات اور ویرانی کا نمونہ پیش کررہے ہیں اور ان کا عملہ کہاں گیا؟پارکس اور گرائونڈز کی کی ویرانی کی وجہ سے اسپتال بھرے پڑے ہیں شہریوں کو کھیل اور تفریح کے مقامات فراہم کرنا سندھ حکومت اور ضلعی حکومت کی ذمے داری ہے جس میں وہ ناکام ہیں۔ عائشہ پارک،باغ مصطفی گرائونڈ،نرسری پارک، المصطفیٰ پارک۔محبوب گرائونڈ کی حالت زار دیکھی جا سکتی ہے جبکہ ٹینک چورنگی پارک میں اسٹاف ہی نہیں،نہ چوکیدار نہ مالی۔انہوں نے کہا کہ ہر سال پارکس اور گرائونڈز کی تعمیرات و دیکھ بھال کے نام پر بلدیہ اور MPA.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔