امریکی ایئرلائن کی بدتمیزی: نامور مسلمان فائٹر احتجاجاً پرواز سے اتر گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
واشنگٹن:روس سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مکس مارشل آرٹس (یو ایف سی) چیمپئن خبیب نُرماگومیڈوف کے ساتھ امریکی ائیرلائن نے قومیت پرستی کی بناپر بدتمیزی کی، جس کی بنیاد پر یو ایف سی چیمپئن فائٹر احتجاجا طیارے سے نیچے اترگئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق چیمپئن خبیب نُرماگومیڈوف جب طیارے میں سوار تھے تو امریکی ائیرلائن کی ائیرہوسٹس نے خاموش بیٹھے عالمی شہرت یافتہ یو ایف سی چیمپئن سے آکر بدتمیزی سے دوسری سیٹ پر بیٹھنے کا حکم دیا،جس پر خبیب فائٹر نے وجہ جاننا چاہی تو ائیرہوسٹس نے بدتمیزی کرتے ہوئے اپنی بات دہرائی ، جب بات زیادہ بڑھی تو سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جس کے بعد خبیب احتجاجا طیارے سے اترگئے۔
https://www.instagram.com/reel/DEuOCIpu94C/?utm_source=ig_embed&ig_rid=ce52f0cf-a81d-4315-b723-37aebd8bb3c9
امریکی ایئرلائن کی یو ایف سی چیمپئن سے طیارے میں کی گئی بدتمیزی کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد صارفین نے امریکی حکام پر خوب تنقید کرتے ہوئے کہاکہ امریکا بات تو انسانیت کی کرتا ہےلیکن نسل اور قوم پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
یو ایف سی چیمپئن نے واقعہ ہونے کے بعد سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئےکہا ہےکہ میں انگریزی بہت اچھے طریقے سے بولنا جانتا ہوں لیکن امریکی ائیرلائن کا رویہ شروع وقت سے ہی بہت بدتمیزوں والا تھا، جس کو میں مسلسل نظر انداز کررہا تھا، لیکن جب ائیرہوسٹس نے بغیر کسی وجہ کے مجھے دوسری نشست پر بیٹھنے کا حکم دیا تو میں نے انکارکردیا، جس پر بات کافی بڑھ گئی تو میں احتجاجا طیارے سے اترکر دوسری فلائٹ سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔