Jasarat News:
2026-06-03@01:41:17 GMT

زنا کے مجرم کو 25 سال قید یا سزائے موت کی تجویز کی مخالفت

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کے اجلاس میں زنا کے مجرم کو 25 سال قید یا سزائے موت کی تجویز کی مخالفت کردی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ازہری کی صدارت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سب کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پی پی سی میں ترمیم کے بل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترمیم کا بل سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کیا گیا، جس میں زنا بالجبر کے ملزمان کی سزا بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں زنا کے مجرم کو کم سے کم 25 سال قید کی سزا یا پھر سزائے موت تجویز کی گئی، جس پر وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے بھی مخالفت کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کے جواب میں تجویز کردہ سزا کو ایبسرڈ قرار دیا گیا ہے۔ اسپیشل سیکرٹری داخلہ نے اجلاس میں بایا کہ جی ایس پی کو ہم نے جواب دیا ہے کہ ہم سزائے موت دے نہیں رہے۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب نے اس بل کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ زنا کے مجرم کو 25 سال یا باقی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے۔ بعد ازاں سب کمیٹی نے سینیٹر محسن عزیز کے ترمیمی بل کی منظوری دیدی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زنا کے مجرم کو سزائے موت

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی