چیمپیئنز ٹرافی کے لیے شرٹس پر پاکستان کا نام لکھوانے کا معاملہ، بھارت نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
نئی دہلی(سپورٹس ڈیسک)بی سی سی آئی کے نئے سیکریٹری دیواجیت سائکیا نے اعلان کیا کہ ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے دوران آئی سی سی کے ضوابط کی تعمیل کرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کی جرسیوں پر میزبان ملک کا نام ’پاکستان‘ دکھایا جائے گا۔
آئی سی سی کے قوانین تمام ٹیموں کو لازمی قرار دیتے ہیں کہ وہ اپنی جرسیوں پر میزبان ملک کا نام لکھیں، قطع نظر اس کے کہ ٹورنامنٹ کا انعقاد کہیں بھی ہو۔ یہ مشق بھارت، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی میزبانی کے حالیہ ٹورنامنٹس میں دیکھنے میں آئی ہے۔
بی سی سی آئی کے سکریٹری کا کہنا ہے کہ بورڈ چیمپئنز ٹرافی کے دوران ہر یونیفارم سے متعلق آئی سی سی اصول پر عمل کرے گا، جس کا مطلب ہے کہ ٹیم کی جرسی پر ’پاکستان‘ لکھا ہوگا۔
آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کو میزبان ملک کے نام کی حامل جرسی پہننی ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ ٹورنامنٹ کہیں بھی کھیلا جائے۔
انڈیا میڈیا نے اس حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ UAE میں منعقدہ 2021 T20 ورلڈ کپ کے دوران، پاکستان کی جرسیوں پر میزبان ملک کے طور پر انڈیا کا نام نمایاں تھا۔ اسی طرح پاکستان کے کھلاڑیوں نے 2016 کے T20 ورلڈ کپ اور 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران ہندوستان کے نام والی جرسی پہنی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں اگلے ماہ ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں انڈیا نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا تھا ، بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ نے بھارتی ٹیم کی چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پہننے والی جرسیوں پر میزبان ملک پاکستان کا نام لکھنے سے انکار کر دیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈیا سیاست کو کرکٹ میں لارہا ہے جو کھیلوں کے لیے ٹھیک نہیں۔ پہلے انہوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا، پھر اپنے کپتان کو پاکستان بھیجنے پر راضی نہیں ہوئے اور اب رپورٹس آئی ہیں کہ وہ میزبان ملک کا نام اپنی جرسیوں پر لکھنے کو بھی تیار نہیں۔
اس سے قبل انڈیا نے ایونٹ سے قبل میں پاکستان میں ہونے والے میچز کھیلنے سے انکار کرکے ہائبرڈ ماڈل پر اصرار کیا تھا جس کی وجہ سے ایونٹ کے شیڈول کے اعلان میں تاخیر ہوتی رہی اور انڈیا کے میچز دبئی میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے بعد بھارت نے پاکستان میں ہونے والی ’کیپٹنز میٹنگ‘ میں ٹیم کے کپتان روہت شرما کو بھیجنے سے بھی انکار کردیا تھا۔
مزیدپڑھیں:کرم میں امن و امان خراب کرنے والے عناصر اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جرسیوں پر میزبان ملک ٹرافی کے کے دوران کا نام
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند