سجاول(نمائندہ جسارت) ڈپٹی کمشنر زاہد حسین رند کی زیر صدارت سماجی ثقافتی زرعی مالیاتی میلے کی تیاریوں و انتظامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے دربار ہال سجاول میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریونیو، پولیس، زراعت، صحت، سوشل ویلفیئر، جنگلات ، تعلیم، آبپاشی، نکاسی آب، بلڈنگز، ہائی ویز، پبلک ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ، پاپولیشن ویلفیئر، لائیو اسٹاک،لائیواسٹاک فشریز، پی پی ایچ آئی، ریسکیو 1122 کے علاوہ ملکی و غیر ملکی این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو انتظامات و تیاریوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میلے کی تقریبات اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ضلعی انتظامیہ سجاول کے مشترکہ تعاون سے کل 4- فروری 2025ء بروز منگل کو صبح 11 بجہ بوائز ڈگری کالج گراؤنڈ سجاول میں افتتاح کیا جائے گا۔ میلے کے انعقاد کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سجاول زاہد حسین رند نے بتایا کہ مرکزی تقریب میں سیمینار، پینل ڈسکشن، ثقافتی شو، تحائف اور لکی ڈرا سمیت ایرانی سرکس اور موت کے کنواںکا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو تفریح کے مواقع مہیا ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میلے میں کاشتکاری کی مشینیں، زرعی فنانسنگ، زرعی مصنوعات و اختراعات، بیج کمپنیاں، کیڑے مار ادویات، کھاد، ذخیرہ کرنے کی سہولت، لائیو اسٹاک اور ڈیری ڈسپلے، خوراک اور دیگر اسٹالز سمیت شام کے وقت لوک موسیقی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے مویشی مالکان، مقامی افراد، محققین، کسان، طلبہ، صنعت کے پیشہ ور افراد اور صحافی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سماجی ثقافتی زرعی مالیاتی میلے اور نمائش میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرکے متوجہ ہوکر معلومات حاصل کریں۔ بعد ازاں، ڈپٹی کمشنر نے بوائز ڈگری کالج گراؤنڈ کا دورہ کرکے انتظامات و دیگر امور کا جائزہ بھی لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر

پڑھیں:

دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب

  رانا فرحان سعید:ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے۔

مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے بند کی تاحال مرمت نہ ہونے سے سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا ہے۔

سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ پانی داخل ہونے سے جانوروں کا چارہ بھی بہہ گیا، جس کے باعث کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

زمینداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری حفاظتی اقدامات، بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز