حکومت نے اسمارٹ واچز اور فٹنس ٹریکرز کو سیکیورٹی رسک قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت نے اسمارٹ واچز، فٹنس ٹریکرز اور دیگر پہننے کے قابل اسمارٹ ڈیوائسز کو سائبر سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس حوالے سے نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ کابینہ ڈویژن نے حساس مقامات پر پہننے کے قابل ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پہننے والی اسمارٹ ڈیوائسز سیکیورٹی رسک ہیں، اسمارٹ ڈیوائسز خفیہ معلومات افشاں کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، حساس مقامات میں ان ڈیوائسز کا استعمال سائبر حملوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈیوائسز ڈیٹا لیک اور غیر مجاز ٹریکنگ کا باعث بن سکتی ہیں، حساس مقامات پر استعمال سے قبل ان ڈیوائسز کے تصدیقی میکانزم کا جائزہ لیا جائے، حساس اجلاسوں، آپریشنز والے مقامات پر ان ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ