Express News:
2026-07-24@13:46:11 GMT

دنیا تباہی کی راہ پر گامزن ہے

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT

نائن الیون کے بعد جو امریکی پالیسی کھل کر سامنے آئی ہے۔ اس میں باہمی مذاکرات کے طریقے کو یکسر تبدیل کر دیا گیا ہے، یعنی ’’حملہ ہونے سے پہلے حملہ کردو‘‘ کی پالیسی کو فروغ دیا، جس کا سب سے بڑا فائدہ وہ ممالک اٹھاتے رہے ہیں اور اٹھا رہے ہیں جو اسلحے کے بیوپاری ہیں۔

ایسے حالات میں یہ توقع رکھنا کہ دنیا امن کی طرف گامزن ہے، عبث ہے۔ سچ یہ ہے کہ دنیا تباہی کی طرف گامزن ہے۔ دنیا کے بڑے اسلحے کے بیوپاری ممالک ان ممالک پر اپنی توجہ مرکوزکیے ہوئے ہیں جہاں خانہ جنگی جاری ہے۔ جہاں لسانی، مذہبی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر جنگیں لڑی جا رہی ہیں، جہاں امن ہوتا ہے وہاں یہ طاقتیں مل کر ایسے حالات پیدا کروا دیتی ہیں کہ وہاں ان کے اسلحے کی مارکیٹ بن سکے۔

 دور جانے کی ضرورت نہیں۔ نائن الیون کے بعد کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے نام پر امریکی سرپرستی میں اڑتیس اتحادی ممالک نے جو جنگ شروع کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کھنڈر بن گیا۔ لاکھوں انسان بے گھر کردیے گئے۔ افغانستان کو پتھرکے زمانے میں پہنچا دیا گیا۔

اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے عالمی طاقتوں نے نت نئے بت تراشے اور فتنے ابھارے۔ کھربوں ڈالرز اس لاحاصل جنگ کی آگ میں جھونک دیے گئے۔ آخر میں تھک ہارکر مفاد پرست ایک ایک کر کے افغان جنگ سے علیحدہ ہوتے گئے، اس طرح امریکا تنہا رہ گیا تو وہ طالبان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوگئے اور رسوا ہوکر افغانستان سے بھاگ گئے۔

لیکن جاتے جاتے بڑی تعداد میں اپنے جدید ہتھیار افغانستان میں چھوڑگئے، جو افغان طالبان کے ہاتھ لگ گئے پھرکسی نہ کسی طرح سے یہ امریکی جدید ہتھیار افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے زیر استعمال آگئے، جن کا نشانہ پاکستان بنا ہوا ہے۔آئے روز افغانستان کے اندر سے پاکستان میں دہشت گردی کی جا رہی ہے۔

امریکا خود تو بھاگ گیا مگر پاکستان کو پھنسا گیا۔ آئے روز پاکستان کے شہری جاں بحق ہو رہے ہیں، ان کی املاک تباہ ہو رہی ہیں۔ ہمارے فوجی جوان شہادت نوش کر رہے ہیں اور دہشت گرد خود بھی جہنم رسید ہورہے ہیں۔ اور امن نہ جانے کہاں کھو گیا ہے؟ مگر اسلحہ خوب فروخت ہوگیا۔

 افغان جنگ کے دوران ہی امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے دنیا کو یہ باورکرانا شروع کردیا تھا کہ عراق کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں جن کا خاتمہ کر کے دنیا کو محفوظ کیا جائے گا۔ عراق سے ایٹمی ہتھیار تو نہیں ملے لیکن امریکی ضد برقرار رہی۔

بعد ازاں کہا گیا کہ عراق سے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد خطے میں امن قائم ہوجائے گا۔ عراقیوں کو آزادی اور جمہوریت میسر آئے گی۔ پھر عراق پر حملہ کردیا گیا۔ عراق کے صدر صدام حسین کو اقتدار سے معزول کیا گیا۔ صدام چھپ گئے مگر انھیں تلاش کرکے گرفتار کر لیا گیا اور امریکی سائے میں قائم عدالت کے کٹہرے میں بطور ملزم کھڑا کردیا گیا۔

صدام حسین پر جھوٹے الزامات کو سچ ثابت کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا اور بالآخر صدام حسین کو ناکردہ جرم کی پاداش میں پھانسی دیدی گئی اور امریکا نے کہا کہ عراق میں آزادی اور جمہوریت بحال کردی گئی ہے، لیکن پھر بھی عراق میں امن قائم نہ ہوسکا۔ حالات خانہ جنگی میں بدل گئے۔ بے حساب انسانوں کو ہلاک کر کے بھی عراق میں امن نایاب رہا بلکہ جو امن صدام حسین حکومت میں تھا، اسے بھی ختم کر کے مزید خانہ جنگی کے حالات پیدا کیے گئے۔

 اسی دوران ایران کی باری کے لیے حالات بگاڑنے کے اسباب تراشنا شروع کر دیے گئے۔ ایران کی طرف سے ایٹمی تنصیبات کے دروازے بین الاقوامی ایجنسی آئی اے ای اے کے لیے کھولنے کے باوجود ایران اب تک امریکی اور اس کے اتحادی ممالک کے زیر عتاب ہے۔ ایران پر عالمی سطح پر معاشی و اقتصادی اور دیگر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، لیکن ایران تمام مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔

 اسی دوران شام اور شمالی کوریا بھی عالمی سامراج کے پروسسز سے گزر رہے تھے، بعد میں شام میں بھی خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی گئی اور پھر اس پر جنگ مسلط کی گئی۔ شام میں بھی ہزاروں انسان ہلاک ہوگئے۔ شام کو بھی کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا لیکن یہ جنگ جاری رہی۔

گزشتہ سال سن دو ہزار چوبیس کے آخری ہفتوں کے دوران مسلح گروپوں نے انقلاب برپا کردیا۔ جبری حکومت کا خاتمہ کردیا گیا۔ ملک کی باگ ڈور انھوں نے سنھبال لی، لیکن اسرائیل بیچ میں گھس گیا، اس نے شامی سرحدوں پر حملے شروع کردیے، اس طرح شام میں بھی امن کا خواب شرمندہ تعبیر کا منتظر ہے۔ دوسری طرف شمالی کوریا، امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایٹمی طاقت کے حصول میں مصروف ہے۔

پاکستان و بھارت کے درمیان باہمی تعلقات معمول پر نہیں ہیں، وقتی طور پر ان کے درمیان ایٹمی جنگ کو ٹال دیا گیا ہے مگر مسئلہ کشمیرکی وجہ سے جنوبی ایشیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں کئی دہائیوں سے بھارتی فوج کی دہشت گردی عروج پر ہے۔ جہاں انسانیت سسک رہی ہے، ایسے میں انسانی حقوق کے چمپئین ممالک اور ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر بھارت، امریکا اور اسرائیل گٹھ جوڑ دنیا پر عیاں ہے اور پاکستان مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

سعودی عرب بھی عالمی دہشت گردی کے نشانے پر رہا اور اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ امن و امان کے مسئلے سے دوچار رہا۔

نائجیریا، انڈونیشیا، چیچینیا، تھائی لینڈ، مصر، بوسینیا اور دیگر ممالک کا امن تباہ کرنے کے بعد باقی جہاں امن ہے وہاں کے حالات بھی بگاڑنے کے اسباب پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں کیسے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا امن کی راہ پرگامزن ہے؟

سچ یہ ہے کہ دنیا کا امن دانستہ طور پر تباہ کیا جاتا رہا ہے اور تباہ کیا جا رہا ہے۔ تبدیلی سرکارکے نام پر پاکستان کے ساتھ جوکھیل کھیلا گیا وہ آہستہ آہستہ دنیا پر عیاں ہوتا جا رہا ہے۔ نو مئی کا واقعہ اس سازش کی کڑیوں میں سے ایک کڑی تھی جو بروقت ناکام بنا دیا گیا بصورت دیگر خدا ناخواستہ پاکستان ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوجاتا مگر دشمن اب بھی خاموش نہیں ہے وہ پاکستان کی سیاست میں دراندازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بلوچستان میں لگائی جانے والی آگ بھی اسی سازش کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور کر کے فتح کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن ان تمام رکاوٹوں کو دورکرتے ہوئے پاکستان عنقریب بلندیوں پر نظر آئے گا اور دشمن منہ تکتے رہ جائیں گے۔ جس سرزمین کی مٹی میں شہیدوں کا سرخ خون شامل ہو، اس سرزمین کو فتح کرنا کسی کا خواب ہوگا، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوسکتا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اتحادی ممالک خانہ جنگی کردیا گیا کہ دنیا دیا گیا رہے ہیں کے بعد رہا ہے اور اس کیا جا

پڑھیں:

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

قدیم چینی انجینیئرنگ کا ایک نادر شاہکار ایک بار پھر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ قدیم چینی انجینیئر کی جانب سے بنایا گیا ایسا پزل ’تالا‘ جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے، 2 ہزار سال سے زیادہ پرانی شاندار انجینیئرنگ کا یہ شاہکار ایسا ہے کہ اسے کھولنے کے لیے محض تالا ہی نہیں ذہانت اور بڑا دماغ بھی چاہیے۔

چینی پزل تالا اپنی پیچیدہ ساخت اور غیر معمولی سیکیورٹی نظام کی بدولت سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جہاں صارفین اس کی انجینیئرنگ اور ڈیزائن کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

This ancient Chinese lock is to hard to unlock pic.twitter.com/8xcgM5BR94

— TrendSphere360 (@BraveSoulsSpace) July 23, 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں پیتل کی رنگت والے قدیم تالے کو ایک خاص شکل کی چابی کے ذریعے کھولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح ہے کہ صرف درست چابی ہونا کافی نہیں بلکہ تالے کو کھولنے کے لیے مخصوص ترتیب، مہارت اور میکانیکی سمجھ اور بڑا دماغ بھی ضروری ہے۔

صرف چابی نہیں، درست طریقہ بھی ضروری

یہ تالاعام تالوں کی طرح صرف چابی گھمانے سے نہیں کھلتا بلکہ ایک مکمل پزل کی صورت میں تیار کیا گیا ہے۔ اسے کھولنے کے لیے ‘T’ یا ‘L’ نما چابی کو مخصوص سلاٹس میں داخل کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، وزیر داخلہ نے تفصیلات سامنے رکھ دیں

پھر اسے پوشیدہ راستوں کے اندر مختلف زاویوں سے سلائیڈ اور موڑا جاتا ہے۔ تمام مراحل درست ترتیب سے مکمل ہونے کے بعد ہی تالے کا شیکل آزاد ہوتا ہے اورتالاکھلتا ہے۔ یہی پیچیدہ طریقہ کار اسے روایتی تالوں سے منفرد بناتا ہے اور اس کی سیکیورٹی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

قدیم انجینیئرنگ کا منفرد نمونہ

تاریخی حوالوں کے مطابق ان تالوں کو ‘کمپلیکس پزل لاکس’، ‘یوکیوو لاکس’، ‘چائنیز پیڈ لاکس’ یا ‘میز لاکس’ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی چینی انجینیئرنگ اور دھات سازی کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔

عام پن ٹمبلر یا مغربی تالوں کے برعکس ان میں پوشیدہ کی ہولز، سلائیڈنگ بارز، اسپرنگز، ملٹی اسٹیج رکاوٹیں اور پیچیدہ اندرونی راستے بنائے جاتے تھے، جنہیں عبور کرنے کے لیے نہ صرف درست چابی بلکہ اس کے استعمال کی مکمل ترتیب جاننا بھی ضروری ہوتا تھا۔

مختلف اقسام اور منفرد چابیاں

ماہرین نے ان قدیم تالوں کو کئی اقسام میں تقسیم کیا ہے، جن میں اضافی رکاوٹ والے تالے، میز لاکس، دو حصوں والے تالے اور پوشیدہ کی ہول والے تالے شامل ہیں۔

ان تالوں کی چابیاں بھی عام چابیوں سے مختلف ہوتی تھیں۔ انہیں مخصوص موڑ، کٹاؤ، نوچوں اور منفرد ساخت کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا تاکہ وہ صرف متعلقہ تالے کے اندرونی میکانزم کے مطابق ہی حرکت کر سکیں۔

مزید پڑھیں:فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک

بعض ڈیزائن قدیم ثقافتی اثرات، خصوصاً بڑے لوہے کے تالوں پر ممکنہ عربی اثرات سے متاثر تھے، تاہم چینی کاریگروں نے انہیں پزل نما انداز دے کر منفرد شناخت فراہم کی۔

صرف سیکیورٹی نہیں، ذہنی تربیت بھی

یہ تالے قیمتی اشیا، صندوقوں، دروازوں اور دیگر سامان کی حفاظت کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی پیچیدگی کی وجہ سے اگر کسی شخص کے پاس چابی بھی موجود ہوتی تو بھی وہ درست طریقہ کار جانے بغیرتالا نہیں کھول سکتا تھا، جس سے چوری کے امکانات کم ہو جاتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تالوں کا مقصد صرف حفاظت فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ یہ میکانیکی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور تخلیقی ذہن کی تربیت کا ذریعہ بھی تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کے جدید پزل باکسز۔

تحریری ریکارڈ کم، دلچسپی زیادہ

تاریخی ماہرین کے مطابق ان میں سے بیشتر تالے عام لوہار تیار کرتے تھے اور اس دور میں انہیں کسی مخصوص برانڈ یا نام سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے ان کی تیاری کے طریقہ کار اور تکنیکی تفصیلات پر تحریری مواد نہایت محدود ہے، جس نے آج بھی انہیں ایک پراسرار حیثیت دے رکھی ہے۔

جدید انجینیئرنگ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث

سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ ان قدیم تالوں کا ڈھانچہ موجودہ دور کے بیشتر تالوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ اگرچہ ان کی ساخت نسبتاً سادہ دکھائی دیتی ہے، لیکن ان کے اندر موجود میکانزم آج کے انجینیئرز کے لیے بھی تحقیق اور دلچسپی کا موضوع ہے۔

مزید پڑھیں:ہواوے کا نئی اسمارٹ فون چِپ لانچ کرنے کا اعلان، اینویڈیا اور ایپل سے مقابلہ مزید تیز

ماہرین کے مطابق یہ قدیم چینی پزل لاکس اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ صنعتی دور سے کئی صدیوں پہلے بھی انجینیئرنگ، دھات سازی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں غیر معمولی مہارت موجود تھی۔

قدیم چین میں ایسے پزل تالے نہ صرف قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے تھے بلکہ انہیں ذہانت، مہارت اور فنی تخلیق کا مظہر بھی سمجھا جاتا تھا۔

آج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہزاروں سال پرانی انجینیئرنگ بھی جدید دور کے انسان کو حیران اور متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان تالوں کی پیچیدہ ساخت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سائنسی اور فنی مہارت اپنے وقت سے کہیں آگے تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایکس پیٹل چینی تالا سماجی رابطے شاندار انجینیئرنگ۔ صرف چابی قدیم انجینیئرنگ منفرد نمونہ ویب سائٹ ویڈیو

متعلقہ مضامین

  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی