سعودی عرب میں ریال کے دیدہ زیب نئے لوگو کا اجراء
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
سعودی مرکزی بینک نے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کی منظوری کے بعد ملکی کرنسی ریال کے نئے لوگو کا اجراء کر دیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق نیا لوگو عربی خطاطی اور قومی کرنسی "ریال" کے نام کا امتزاج ہے، جس کا استعمال مالی اور تجارتی لین دین میں سعودی عرب کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر کیا جائے گا۔
نئے لوگو کے اجرا کو مملکت کے مالیاتی سفر کے نئے باب کا آغاز کہا جا رہا ہے۔
لوگو کا فوری طور پر اطلاق کیا جائے گا اور مالیاتی اور تجارتی لین دین کے ساتھ ساتھ مختلف ایپلی کیشنز میں اس کا تدریجی طور پر انضمام متعلقہ اداروں کے تعاون کے ساتھ کیا جائے گا۔
سعودی مرکزی بینک کے گورنر ایمن ال سیاری نے فرمانروا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگو سعودیہ کی مالیاتی شناخت کو مقامی اور عالمی سطح پر مستحکم کرتا ہے۔
ایمن ال سیاری نے مزید کہا کہ ریال کے نئے لوگو کا ڈیزائن قومی فخر اور ثقافتی اتحاد کو بھی فروغ دیتا اور ملک کی ثقافتی وراثت کی نمائندگی کرتا ہے۔
مرکزی بینک کے گورنر نے اس منصوبے میں شامل تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں کی تعریف کی، جن میں وزارت ثقافت، وزارت اطلاعات، اور سعودی معیارات، پیمائش اور معیار کی تنظیم شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :